قرآنِ کریم محض ایک کتاب نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا وہ زندہ کلام ہے جو دلوں کو زندگی، روحوں کو تازگی اور ایمان کو جِلا بخشتا ہے۔ جب اس کی آیات بندۂ مومن کے دل میں اترتی ہیں تو اس کے خیالات، جذبات، اعمال اور کردار سب بدل جاتے ہیں۔
قرآن کریم نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم جیسے عام انسانوں کو تاریخ کی عظیم ترین ہستی بنا دیا۔ اس کی تلاوت دلوں میں خشیت، روحوں میں سکون اور زندگی میں انقلاب پیدا کرتی ہے۔
قرآن کریم کی تاثیر کا سب سے روشن پہلو یہ ہے کہ یہ ایمان میں اضافہ کرتا ہے۔
:اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ (الأنفال: 2)
حقیقی مومن تو وہی ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کا ذکر ہوتا ہے تو ان کے دل لرز اٹھتے ہیں، اور جب ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کی آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں تو ان کے ایمان میں اضافہ ہو جاتا ہے اور وہ اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں ۔
قرآن کریم کے ایمان افروز نقوش صرف عقائد تک محدود نہیں ہیں بلکہ انسان کے اخلاق، عبادات، معاملات اور معاشرت پر بھی نمایاں ہوتے ہیں۔ اس کی آیات دل میں اللہ تعالیٰ کی عظمت، آخرت کی فکر، نیکی کی محبت اور گناہوں سے نفرت پیدا کرتی ہیں۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم قرآن کریم سنتے تو ان کے دل کانپ اٹھتے، آنکھیں اشک بار ہو جاتیں اور زندگیوں کا رخ بدل جاتا تھا۔
ان کے نزدیک قرآن کریم تلاوت کے لیے نہیں بلکہ عمل کے لیے نازل ہوا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ قرآن کریم نے ان کے اندر ایسی قوتِ ایمانی پیدا کی جس کے سامنے دنیا کی بڑی بڑی طاقتیں بھی ہیچ ثابت ہو گئیں۔
آج بھی جو دل اخلاص کے ساتھ قرآن کریم سے جڑ جاتے ہیں، ان پر ایمان افروز نقوش نمایاں ہونے لگتے ہیں، دل زندہ ہو جاتا ہے، فکر پاکیزہ ہو جاتی ہے، کردار سنورنے لگتے ہیں اور بندہ اپنے رب کے قریب تر ہو جاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم کی تاثیر زمان و مکان کی قید سے آزاد ہے ، کل بھی دلوں کو بدلتی تھی، آج بھی بدل رہی ہے اور قیامت تک بدلتی رہے گی۔
قرآن کریم جب دلوں میں اترتا ہے تو الفاظ نقوش بن جاتے ہیں، نقوش کردار بن جاتے ہیں اور کردار ایمان کی ایسی روشن تصویر بن جاتا ہے جس سے پوری زندگی منور ہو جاتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ قرآن کریم ایمان میں اضافہ کیسے کرتا ہے؟
آیاتِ الٰہی دلوں میں کب اترتی ہیں؟
اور قرآن کریم کی وہ کون سی تاثیر ہے جس نے تاجروں ، گلہ بانوں اور عام لوگوں کو تاریخ کی عظیم ترین ھستیوں میں تبدیل کر دیا ؟
حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم دلوں میں اس وقت اترتا ہے جب دل زندہ ہوں ، نیت خالص ہو، اللہ تعالیٰ کے کلام پر عمل کا عزم موجود ہو اور اپنے رب کے حضور جواب دہی کا یقین دل میں جاگزیں ہو ،
لیکن اگر یہ کہا جانے لگے کہ قرآن کریم عام لوگوں کے لئے نہیں ، صرف علماء کے لئے نازل ہوا ہے۔
یہ ھدی للناس ( لوگوں کے لئے ھدایت ہے ) ، ھدی للمتقین ( متقیوں کے لئے ھدایت ہے ) کے بجائے صرف علماء کے لئے رھنما ہے ، علماء کرام کے علاوہ اسے کوئی نہیں سمجھ سکتا تو پھر قرآن کریم کی فیوض سے محرومی طے ہے ۔
آئیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تربیت یافتہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی حیات مبارکہ پر نظر ڈالتے ہیں ، جنہوں نے قرآن کریم پر عمل کرکے یہ ثابت کر دیا کہ یہ نہ صرف کتاب ھدایت و عمل ہے بلکہ کتاب انقلاب ہے جو انسان کی سوچ بلکہ اس کی پوری زندگی تبدیل کر دیتی ہے ۔
حضرت ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ مدینہ کے ان خوش نصیب اور صاحبِ ثروت صحابہ میں سے تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے فراخ رزق اور وافر مال و دولت سے نوازا تھا۔ مدینہ کے نخلستانوں میں ان کے بے شمار کھجوروں کے باغات لہلہاتے تھے ۔ ان تمام باغات میں “بَیْرُحَاء” ان کے دل کے سب سے قریب تھا۔ یہ باغ حسن و شادابی، عمدہ پانی اور زرخیزی میں اپنی مثال آپ تھا۔ انسان فطری طور پر اپنی بہترین متاع سے محبت کرتا ہے، اور ابوطلحہ کے لیے یہ باغ ان کی سب سے محبوب متاع تھی۔
مگر جب سورہ آل عمران کی آیت نمبر 92 نازل ہوئی۔
:اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا
لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ ۚ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ شَيْءٍ فَإِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِيمٌ (آل عمران: 92)
تم ہرگز نیکی کے کامل مقام کو نہیں پا سکتے جب تک اپنی محبوب چیزوں میں سے خرچ نہ کرو، اور تم جو کچھ بھی خرچ کرتے ہو اللہ تعالیٰ اسے خوب جانتے ہیں۔
تو مال کی محبت، اللہ تعالیٰ کی محبت کے سامنے ماند پڑ گئی، اور انہوں نے اپنے محبوب ترین باغ کو اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر قربان کرنے کا فیصلہ کیا ۔
حضرت ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ بارگاہِ نبوت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا
قال أبو طلحة الأنصاري: يا رسول الله! إن الله تبارك وتعالى يقول: (لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون)، وإن أحب أموالي إليَّ بيرحاء، وإنها صدقة لله، أرجو برها وذخرها عند الله، فضعها يا رسول الله حيث أراك الله. فقال رسول الله ﷺ: أرى أن تجعلها في الأقربين.
فقال أبو طلحة: أفعل يا رسول الله. فقسمها أبو طلحة في أقاربه وبني عمه. (بخاری، مسلم)
یا رسول اللہ !
:اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
تم ہرگز نیکی کے اعلیٰ مقام کو نہیں پا سکتے جب تک اپنی محبوب چیزوں میں سے خرچ نہ کرو’ اور میرے تمام اموال میں سب سے زیادہ محبوب ‘بَیْرُحَاء’ باغ ہے۔ میں اسے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے صدقہ کرتا ہوں۔ مجھے امید ہے کہ اس کا اجر اور ذخیرہ اللہ تعالیٰ کے پاس ملے گا، لہٰذا آپ اسے وہاں خرچ فرمائیں جہاں آپ کو اللہ تعالیٰ کا حکم ہو۔
:رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا
میری رائے یہ ہے کہ تم اسے اپنے قریبی رشتہ داروں میں تقسیم کر دو۔
:حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا
“یا رسول اللہ! میں ایسا ہی کروں گا۔”
چنانچہ انہوں نے وہ باغ اپنے رشتہ داروں اور چچا زاد بھائیوں میں تقسیم کر دیا۔
یہ محض ایک صدقے کا واقعہ نہیں بلکہ قرآن کریم کی تاثیر کا ایک زندہ معجزہ ہے۔
غور کیجیے! ایک آیت نازل ہوتی ہے، ایک صحابی اسے سنتے ہیں، اور ان کے دل میں ایسا انقلاب برپا ہوتا ہے کہ اپنی سب سے محبوب اور قیمتی جائیداد اللہ تعالیٰ کے راستے میں پیش کر دیتے ہیں۔
بَیْرُحَاء مدینہ کے بہترین باغات میں شمار ہوتا تھا۔ اس کا پانی میٹھا تھا، اس کی زمین زرخیز تھی اور خود رسول اللہ ﷺ بھی اس باغ میں تشریف لے جایا کرتے تھے۔
یہ باغ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی محبتوں کا مرکز اور ان کے مال کا سب سے قیمتی حصہ تھا۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ کا حکم سامنے آیا تو مال کی محبت، اللہ تعالیٰ کی محبت کے سامنے ہیچ ہو کر رہ گئی۔
یہی وہ مقام ہے جہاں قرآن کریم دل میں اترتا ہے۔ جب آیت صرف سنی نہیں جاتی بلکہ دل کی گہرائیوں میں جگہ بنا لیتی ہے۔
جب انسان یہ محسوس کرتا ہے کہ یہ خطاب کسی اور سے نہیں بلکہ مجھ سے ہے۔ جب حکمِ الٰہی کے مقابلے میں دنیا کی ہر محبوب چیز چھوٹی نظر آنے لگتی ہے۔
حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے آیت کی تفسیر زبان سے نہیں ، اپنے عمل سے کی۔ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ آیت کا مطلب کیا ہے، بلکہ اپنی محبوب ترین متاع قربان کرکے بتا دیا کہ قرآن کریم دلوں میں کیسے اترتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جب قرآن کریم زندہ دلوں میں اترتا ہے تو وہ معلومات نہیں، انقلاب پیدا کرتا ہے ۔الفاظ نہیں، کردار بناتا ہے؛ جذبات نہیں، قربانیاں پیدا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم قرآن کریم سنتے تھے تو ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا تھا، اور وہ آیاتِ الٰہی کو اپنی زندگیوں میں ڈھال کر “وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا” کا عملی نمونہ بن جاتے تھے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے عرب معاشرے میں حسب و نسب، خاندان اور قبائلی برتری کو غیر معمولی اہمیت حاصل تھی۔ معزز خاندانوں کے لوگ اپنے آپ کو دوسروں سے برتر سمجھتے تھے اور غلاموں یا آزاد کردہ غلاموں کے ساتھ رشتہ داری کو باعثِ عار خیال کرتے تھے۔
حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام اور منہ بولے بیٹے تھے، جبکہ حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا قریش کے ایک نہایت معزز خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔
وہ رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی زاد بہن بھی تھیں۔
جب رسول اللہ ﷺ نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے لیے حضرت زید رضی اللہ عنہ کا پیغام دیا تو طبعی طور پر انہیں اور ان کے گھر والوں کو تردد ہوا۔ وہ اپنے خاندانی مرتبے کے پیشِ نظر اس رشتے کو پسند نہیں کر رہے تھے۔
:اسی موقع پر یہ آیت نازل ہوئی
وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ ۗ وَمَن يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا مُّبِينًا ( الاحزاب 36 )
کسی مومن مرد اور مومن عورت کے لیے یہ جائز نہیں کہ جب اللہ تعالٰی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کسی معاملے کا فیصلہ کر دیں تو پھر انہیں اپنے اس معاملے میں کوئی اختیار باقی رہے، اور جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کریگا وہ کھلی گمراہی میں پڑ گیا۔
اور واضح فرما دیا کہ جب اللہ تعالیٰ اور ان کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کسی معاملے کا فیصلہ فرما دیں تو ایک مومن کے لیے اپنی پسند و ناپسند کو ترجیح دینا درست نہیں۔
جوں ہی یہ آیت نازل ہوئی اور حضرت زینب رضی اللہ عنہا تک اللہ تعالیٰ کا یہ حکم پہنچا، ان کے دل کا تردد ختم ہوگیا۔ انہوں نے اپنی ذاتی پسند، خاندانی وقار اور معاشرتی رسم و رواج کو اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کے حکم کے سامنے قربان کر دیا اور وہ اس نکاح پر رضا مند ہوگئیں۔
یہ ایک ایسا فیصلہ تھا جس نے صدیوں پرانی جاہلی سوچ کو توڑ دیا اور عملی طور پر یہ اعلان کر دیا کہ اسلام میں اصل عزت نسب، خاندان اور مال میں نہیں بلکہ تقویٰ اور اطاعتِ الٰہی میں ہے۔
یہ واقعہ قرآن کریم کی تاثیر کا ایک اور عظیم شاہکار ہے۔ یہاں مال کی قربانی نہیں تھی، بلکہ اپنی رائے، اپنی پسند اور اپنے سماجی مقام کی قربانی تھی۔ بعض اوقات انسان کے لیے مال قربان کرنا آسان ہوتا ہے، لیکن اپنی خواہش اور اپنی انا کو قربان کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔
حضرت زینب رضی اللہ عنہا ایک معزز خاتون تھیں۔ وہ چاہتیں تو اپنے خاندانی مرتبے کو بنیاد بنا کر انکار کر سکتی تھیں، لیکن جب اللہ تعالیٰ کا حکم آگیا تو ان کے نزدیک اپنی پسند کی کوئی حیثیت باقی نہ رہی۔
یہی قرآن کریم کے دل میں اترنے کی علامت ہے کہ انسان اپنی خواہشات کو اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع کر دے۔
جب تک انسان قرآن کریم کو اپنی رائے کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتا ہے، قرآن کریم اس کے دل میں نہیں اترتا۔ لیکن جب وہ اپنی رائے کو قرآن کریم کے تابع کر دیتا ہے تو قرآن کریم اس کی زندگی کا رہنما بن جاتا ہے۔
حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے اپنے عمل سے ثابت کر دیا کہ ایمان صرف عقیدے کا نام نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ اور ان کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سر تسلیم خم کر دینے کا نام ہے۔ مومن کی شان یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کا حکم آ جائے تو وہ یہ نہیں دیکھتا کہ اس کی خواہش کیا ہے، بلکہ یہ دیکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کس میں ہے۔
یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ قرآن کریم کی حقیقی تاثیر انسان کو “میں چاہتا ہوں” سے نکال کر “اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں” تک پہنچا دیتی ہے۔ اس کے بعد ذاتی خواہشات، خاندانی روایات اور معاشرتی دباؤ سب اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے ہیچ ہو جاتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم جب دل میں اترتا ہے تو انسان کی ترجیحات بدل جاتی ہیں۔ وہ اپنی پسند کے بجائے اللہ تعالیٰ کی پسند کو، اپنے فیصلے کے بجائے اللہ تعالیٰ کے فیصلے کو اور اپنی خواہش کے بجائے اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقدم کر دیتا ہے۔
حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کا یہ واقعہ اسی حقیقت کی روشن دلیل ہے کہ قرآن کریم کی تاثیر زندگی کے بڑے سے بڑے فیصلوں کو بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع بنا دیتی ہے۔
واقعۂ افک اسلامی تاریخ کا ایک نہایت دردناک واقعہ ہے۔ منافقین نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگائی اور بعض سادہ لوح مسلمان بھی اس فتنے کی لپیٹ میں آگئے۔ ان میں حضرت مِسطح بن اثاثہ رضی اللہ عنہ بھی تھے، جو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے خالہ زاد بھائی تھے۔
:قالت عائشة رضي الله عنها
وكان أبو بكرٍ يُنفقُ على مِسطحِ بنِ أُثاثةَ لقرابتِه منه وفقرِه، فقال: واللهِ لا أُنفِقُ على مِسطحٍ شيئًا أبدًا بعد الذي قال لعائشةَ
:فأنزل اللهُ تعالى
وَلَا يَأْتَلِ أُولُوا الْفَضْلِ مِنكُمْ وَالسَّعَةِ أَنْ يُؤْتُوا أُولِي الْقُرْبَى وَالْمَسَاكِينَ وَالْمُهَاجِرِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا
فقال أبو بكرٍ رضي الله عنه
بلى واللهِ إني لأُحِبُّ أن يغفرَ اللهُ لي فرجع إلى مِسطحٍ النفقةَ التي كان يُنفقُ عليه، وقال
واللهِ لا أنزعُها منه أبدًا
(بخآری کتاب المغازی)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ
حضرت مِسطح رضی اللہ عنہ غریب و حاجت مند تھے، اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مدتوں سے ان کی مالی امداد فرمایا کرتے تھے۔ جب آپ کو معلوم ہوا کہ وہ بھی اس واقعے میں شامل ہیں تو آپ کو شدید صدمہ پہنچا۔ آپ نے قسم کھا لی کہ آئندہ کبھی ان کی مالی مدد نہیں کریں گے۔
اسی موقع پر یہ آیت نازل ہوئی
:اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
وَلَا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنكُمْ وَالسَّعَةِ أَنْ يُؤْتُوا أُولِي الْقُرْبَىٰ وَالْمَسَاكِينَ وَالْمُهَاجِرِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ۖ وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا ۗ أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (النور: 22)
تم میں سے فضیلت اور وسعت والے لوگ اس بات کی قسم نہ کھائیں کہ وہ اپنے رشتہ داروں، مسکینوں اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو کچھ نہ دیں گے، بلکہ انہیں معاف کر دینا چاہیے اور درگزر کرنا چاہیے۔ کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں بخش دیں ؟ اور اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والے، نہایت مہربان ہیں۔
جوں ہی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ آیت سنی ، اللہ تعالیٰ کا یہ سوال
أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ
کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں معاف کر دیں؟
ان کے دل میں ایسا اترا کہ زبان پر بے ساختہ یہ کلمات جاری ہوگئے
بَلَىٰ وَاللّٰهِ، إِنِّي لَأُحِبُّ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لِي
کیوں نہیں! اللہ کی قسم، میں ضرور چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے معاف فرما دیں۔
اس کے بعد نہ صرف اپنی قسم واپس لے لی بلکہ حضرت مِسطح رضی اللہ عنہ کی مالی امداد دوبارہ شروع کر دی اور فرمایا کہ اب یہ تعاون کبھی بند نہیں کروں گا۔
یہ واقعہ قرآن کریم کی تاثیر کا ایک ایسا شاہکار ہے جس کی مثال تاریخ میں مشکل سے ملتی ہے۔
ایک طرف باپ کی غیرت تھی، بیٹی کی عزت تھی، دل کا زخم تھا، رشتہ دار کی بے وفائی تھی اور انسانی جذبات کا شدید طوفان تھا۔
دوسری طرف اللہ تعالیٰ کا ایک حکم تھا اور قرآن کریم کی ایک آیت تھی۔
عام انسان برسوں تک ایسے زخم نہیں بھول پاتا، لیکن حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا دل قرآن کریم کے نور سے منور تھا۔
:جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا
وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا
انہیں معاف کر دینا چاہیے اور درگزر کرنا چاہیے
تو ان کے دل میں انتقام کی آگ بجھ گئی۔
:اور جب یہ سنا
أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ
کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں معاف کر دیں؟
تو انہیں اپنی خطائیں یاد آگئیں، اپنی محتاجی یاد آگئی اور اپنے رب کی مغفرت کی ضرورت کا احساس جاگ اٹھا۔ چنانچہ جس شخص سے دل کو تکلیف پہنچی تھی، اسی پر احسان کا دروازہ دوبارہ کھول دیا ۔
یہی قرآن کریم کا اعجاز ہے کہ دلوں سے نفرت نکال کر محبت پیدا کرتا ہے، انتقام کو معافی میں بدل دیتا ہے، غصے کو رحمت میں تبدیل کر دیتا ہے اور انسان کو اپنی ذات سے بلند کرکے اللہ تعالیٰ کی رضا کے مقام تک پہنچا دیتا ہے۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تفسیر الفاظ سے نہیں بلکہ اپنے کردار سے کی۔ انہوں نے ثابت کر دیا کہ جب قرآن کریم دل میں اترتا ہے تو انسان صرف اپنے حقوق نہیں دیکھتا بلکہ اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور رضامندی کو ترجیح دیتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم کی تاثیر کا سب سے بڑا ثبوت یہی ہے کہ وہ انسان کے جذبات پر حکومت کرنے لگتا ہے۔ جب دل قرآن کریم کے سامنے جھک جائے تو انتقام کی جگہ عفو، نفرت کی جگہ محبت اور رنجش کی جگہ احسان جنم لیتا ہے۔
یہی وہ کیفیت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے ایمان میں اضافے سے تعبیر فرمایا ہے
وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا
جب ان پر اللہ تعالیٰ کی آیات پڑھی جاتی ہیں تو ان کے ایمان میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے واقعہ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ قرآن کریم جب دل میں اترتا ہے تو انسان دوسروں کی خطاؤں کو نہیں، اپنے رب کی مغفرت کو دیکھنے لگتا ہے؛ اور یہی ایمان کی بلند ترین منزلوں میں سے ایک منزل ہے۔
حضرت زین العابدین، علی بن حسین رحمۃ اللہ علیہ، جو عبادت، تقویٰ، حلم اور اخلاقِ حسنہ میں اپنے زمانے کے ممتاز افراد میں شمار ہوتے تھے، ایک مرتبہ مہمان کے ساتھ کھانے پر تشریف فرما تھے۔ ان کی ایک خادمہ گرم شوربے کا برتن لیے ہوئے حاضر ہوئی۔ اچانک اس کے ہاتھ سے برتن چھوٹ گیا اور گرم شوربہ حضرت زین العابدین رحمہ اللہ پر گر گیا۔
یہ ایک ایسی غلطی تھی جس پر کسی بھی انسان کو غصہ آ سکتا تھا۔ خادمہ نے آپ کے چہرے پر غصے کے آثار محسوس کیے تو فوراً قرآن کریم کی یہ آیت پڑھی
وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ (آل عمران: 134)
اور میرے متقی بندے وہ ہیں جو اپنا غصہ پی جاتے ہیں۔
:حضرت زین العابدین رحمہ اللہ نے فوراً فرمایا
میں نے اپنا غصہ پی لیا۔
خادمہ نے آیت کا اگلا حصہ پڑھا: وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ
اور لوگوں کو معاف کر دیتے ہیں۔
:آپ نے فرمایا
میں نے تمہیں معاف کر دیا۔
پھر اس نے آیت کا آخری حصہ پڑھا: وَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ
اور اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں سے محبت فرماتے ہیں۔
یہ سنتے ہی حضرت زین العابدین رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا
جاؤ! میں نے تمہیں اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے آزاد کر دیا۔
(احیاء علوم الدین، امام غزالی رحمہ اللہ)
یہ واقعہ قرآن کریم کی تاثیر کا ایک نہایت دل نشین اور ایمان افروز نمونہ ہے۔
یہاں صرف غصہ دبانے کی بات نہیں تھی بلکہ غصے کو معافی میں اور معافی کو احسان میں بدل دینے کا عملی مظاہرہ تھا۔
عام طور پر انسان جب کسی کی غلطی سے تکلیف اٹھاتا ہے تو اس کا پہلا ردِّ عمل ناراضی اور انتقام ہوتا ہے۔ اگر بہت بردبار ہو تو معاف کر دیتا ہے، لیکن قرآن جن بلند اخلاقی کی تعلیم دیتا ہے وہ صرف معاف کرنے پر ختم نہیں ہوتے بلکہ احسان تک پہنچتے ہیں۔
حضرت زین العابدین رحمۃ اللہ علیہ کے سامنے بھی یہی موقع تھا۔ وہ چاہتے تو خادمہ کو ڈانٹ دیتے، سزا دیتے یا کم از کم ناراضی کا اظہار کرتے، لیکن ان کا دل قرآن کریم کے نور سے روشن تھا۔ جوں ہی قرآن کریم کی آیت ان کے کانوں میں پڑی، انہوں نے اسے محض تلاوت کے طور پر نہیں سنا بلکہ اپنے لیے اللہ تعالٰی کا حکم سمجھا۔
پہلے انہوں نے غصہ پر کنٹرول کیا، پھر معاف کیا، اور پھر احسان کے بلند ترین مقام پر پہنچ کر خادمہ کو آزاد کر دیا۔ گویا قرآن کریم کی ایک آیت نے چند لمحوں میں ان کے جذبات کا رخ بدل دیا۔
یہی قرآن کریم کی حقیقی تاثیر ہے۔ قرآن کریم انسان کو ردِّ عمل کی نفسیات سے نکال کر اخلاقِ نبوت کے راستے پر لے آتا ہے۔ وہ انتقام کی آگ کو ٹھنڈا کرتا ہے، دل کی سختی کو نرمی میں بدلتا ہے اور انسان کو اپنے نفس پر غالب ہونا سکھاتا ہے۔
اس واقعے میں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ خادمہ نے آیت پڑھی اور حضرت زین العابدین رحمۃ اللہ علیہ نے فوراً اس پر عمل کیا۔ نہ تاویل کی، نہ تاخیر کی، نہ عذر تلاش کیا۔ کیونکہ جن دلوں میں قرآن کریم اتر جاتا ہے، وہاں آیات بحث کا موضوع نہیں بنتیں بلکہ عمل کا محرک بن جاتی ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم کا سب سے بڑا معجزہ یہی ہے کہ وہ انسان کے باطن کو بدل دیتا ہے۔ وہ غصے کو حلم میں، ناراضی کو معافی میں اور معافی کو احسان میں تبدیل کر دیتا ہے۔
حضرت زین العابدین رحمۃ اللہ علیہ کا یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ قرآن کریم صرف کچھ رسمی عبادتوں کی کتاب نہیں بلکہ اعلیٰ اخلاق، حسنِ سلوک اور عظمتِ کردار کی بھی کتاب ہے۔ جب اس کی آیات دلوں میں اترتی ہیں تو انسان دوسروں سے بدلہ لینے کے بجائے انہیں معاف کرنے لگتا ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں بندہ اللہ تعالیٰ کی محبت کا مستحق بن جاتا ہے۔
یہی قرآن کریم کی تاثیر ہے، یہی ایمان میں اضافہ ہے، اور یہی ان نفوسِ قدسیہ کا امتیاز تھا جنہوں نے قرآن کریم کو صرف پڑھا نہیں بلکہ اپنی زندگی کا حصہ بنا لیا۔
لیکن یہ حقیقت ہمیشہ پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ قرآنِ کریم کی آیات سے اس طرح متاثر ہونا، ان کے سامنے اپنی خواہشات کو قربان کر دینا اور ان کے تقاضوں کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھال لینا ہر شخص کے نصیب میں نہیں ہوتا۔ یہ سعادت انہی لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جو قرآن کریم کو محض ایک مقدس کتاب نہیں بلکہ اپنے رب کا زندہ پیغام سمجھتے ہیں، جو یہ یقین رکھتے ہیں کہ یہ کتاب صرف تلاوت، برکت یا تعویذ بنانے کے لیے نہیں اتاری گئی، بلکہ اسے پڑھنے، سمجھنے، اس میں غور و فکر کرنے اور اپنی زندگی کے ہر شعبے میں اس پر عمل کرنے کے لیے نازل کیا گیا ہے۔
ایسے لوگوں کے نزدیک قرآن کریم ماضی کی اقوام کی داستانوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ان کی اپنی زندگی کا آئینہ ہوتا ہے۔ وہ جب کسی حکم کی آیت پڑھتے ہیں تو یہ نہیں سوچتے کہ اس کا مخاطب کوئی اور ہے، بلکہ محسوس کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ براہِ راست ان سے گفتگو فرما رہے ہیں ۔ چنانچہ ان کے دل آیاتِ الٰہی کے سامنے جھک جاتے ہیں، ان کے افکار بدل جاتے ہیں، ان کی ترجیحات تبدیل ہو جاتی ہیں اور ان کی زندگی اطاعت و بندگی کے سانچے میں ڈھلنے لگتی ہے۔
اس کے برعکس جو لوگ قرآنِ کریم کو منزل من اللہ تو مانتے ہیں لیکن اسے فہم و عمل کی کتاب نہیں سمجھتے، یا اس کے احکام کو اپنی عملی زندگی سے غیر متعلق تصور کرتے ہیں، وہ قرآن کریم کی حقیقی تاثیر سے محروم رہتے ہیں۔ ان کے لیے قرآن کریم محض ثواب کا ذریعہ یا ایک مقدس یادگار بن کر رہ جاتا ہے۔
آیات ان کے کانوں تک تو پہنچتی ہیں مگر دلوں تک نہیں اترتیں، زبان پر تو جاری ہوتی ہیں مگر کردار میں ظاہر نہیں ہوتیں، نگاہوں سے تو گزرتی ہیں مگر زندگیوں کو تبدیل نہیں کرتیں۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی عظمت کا راز یہی تھا کہ وہ قرآن کریم کو اپنے رب کا براہِ راست خطاب سمجھتے تھے۔ جب کوئی آیت نازل ہوتی تو وہ سب سے پہلے یہ سوچتے کہ اس پر عمل کیسے کیاجائے ۔ اسی احساس نے انہیں قرآن کریم کا چلتا پھرتا نمونہ بنا دیاتھا
یہ کیفیت اگر آج بھی پیدا ہو جائے تو قرآن کریم ہماری زندگیوں میں انقلاب لا سکتا ہے اور ہم دونوں جہان کی کامیابیوں سے بہرہ ور ہو سکتے ہیں ۔



