انسانی زندگی میں اخلاقیات کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ انسان کی حقیقی عظمت نہ اس کی ظاہری شان و شوکت میں ہے، نہ مال و دولت کی فراوانی میں، بلکہ اس کی اصل قدر و منزلت اس کے پاکیزہ کردار، صالح اعمال، خوفِ خدا، حسنِ معاملات اور اعلیٰ اخلاق میں پوشیدہ ہے۔
اسلام نے انسانیت کو ایک ایسا جامع، متوازن اور پاکیزہ نظامِ حیات عطا کیا ہے جس میں عقائد کی درستی، عبادتوں کی روحانیت، اخلاق کی پاکیزگی، حقوقُ اللہ کی ادائیگی، حقوقُ العباد کی حفاظت، عدل، رحم، امانت ، دیانت اور تقویٰ سب شامل ہیں۔
یہی وہ کامل نظام ہے جو انسان کے ظاہر و باطن کی اصلاح کرتا، فرد کو روحانی بلندی عطا کرتا اور معاشرے کو امن، سکون، عدل اور پاکیزگی سے آراستہ کرتا ہے۔
اسلام نے جہاں نیکی، تقویٰ اور پاکیزگی کی دعوت دی، وہیں گناہوں خصوصاً “کبیرہ گناہوں” سے نہایت شدت کے ساتھ بچنے کا حکم بھی دیا، کیونکہ گناہ انسانی تباہی، اخلاقی زوال اور روحانی ہلاکت کی بنیادیں ہیں۔
گناہ انسان کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور، دل کو تاریک، روح کو کمزور، عقل کو مفلوج اور معاشرے کو فساد و انتشار کی طرف لے جاتے ہیں۔ جب گناہ عام ہو جاتے ہیں تو ظلم، بدامنی، بے حیائی، بے اعتمادی، نفرت اور جرائم فروغ پانے لگتے ہیں۔ دلوں سے خوفِ خدا نکل جاتا ہے، ضمیر مردہ ہو جاتے ہیں، اور انسان نیکی کو بوجھ جبکہ گناہ کو آسان اور معمولی چیز سمجھنے لگتا ہے۔ یہی وہ خطرناک کیفیت ہے جو فرد کو روحانی موت اور معاشرے کو اجتماعی تباہی کے دہانے تک پہنچا دیتی ہے۔
کبیرہ گناہ وہ ہیں جن پر شریعت میں حد مقرر کی گئی ہو، یا جن کے بارے میں جہنم، غضبِ الٰہی، لعنت یا شدید وعید وارد ہوئی ہو۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں
كُلُّ ذَنْبٍ خَتَمَهُ اللَّهُ بِنَارٍ أَوْ غَضَبٍ أَوْ لَعْنَةٍ أَوْ عَذَابٍ فَهُوَ مِنَ الْكَبَائِرِ۔ (تفسیر الطبری)
ہر وہ گناہ جس پر اللہ تعالیٰ نے جہنم، غضب، لعنت یا عذاب کی وعید بیان فرمائی ہو، وہ کبیرہ ہے۔
امام ذہبی رحمة اللہ عليه فرماتے ہیں
الكبِيرَةُ: كُلُّ ذَنْبٍ رَتَّبَ الشَّارِعُ عَلَيْهِ حَدًّا فِي الدُّنْيَا، أَوْ وَعِيدًا فِي الآخِرَةِ۔ (كتاب الكبائر للذهبي)
کبیرہ گناہ وہ ہے جس پر شریعت نے دنیا میں حد یا آخرت میں وعید مقرر کی ہو۔
کبیرہ گناہ عام لغزشوں اور کوتاہیوں (صغیرہ گناہوں ) سے کہیں زیادہ خطرناک، مہلک اور تباہ کن ہوتے ہیں۔ یہ انسان کے ایمان کو کھوکھلا، عبادتوں کو بے روح، دل کو بے نور اور معاشرے کو اخلاقی زوال کا شکار بنا دیتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَنُدْخِلْكُمْ مُدْخَلًا كَرِيمًا (النساء: 31)
اگر تم اُن بڑے گناہوں سے بچتے رہو جن سے تمہیں منع کیا گیا ہے تو ہم تمہاری چھوٹی کوتاہیاں (صغیرہ گناہوں کو) معاف کر دیں گے اور تمہیں عزت والی جگہ میں داخل کریں گے۔
نبی کریم ﷺ نے بھی کبیرہ گناہوں سے نہایت سختی کے ساتھ بچنے کی تاکید فرمائی۔
:چنانچہ ارشاد ہے
اجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوبِقَاتِ
قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا هُنَّ؟
قَالَ: الشِّرْكُ بِاللَّهِ، وَالسِّحْرُ، وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ، وَأَكْلُ الرِّبَا، وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ، وَالتَّوَلِّي يَوْمَ الزَّحْفِ، وَقَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ الْغَافِلَاتِ۔ (بخاری)
ہلاک کر دینے والے سات گناہوں سے بچو۔
:صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا
اے اللہ کے رسول! وہ کون سے گناہ ہیں؟
:آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا
اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، جادو کرنا، کسی ایسی جان کو ناحق قتل کرنا جسے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، جہاد کے دن میدان سے پیٹھ پھیر کر بھاگ جانا، اور پاک دامن، سیدھی سادی مؤمن عورتوں پر تہمت لگانا.
کبیرہ گناہوں میں بعض گناہ ایسے ہیں جو براہِ راست حقوقُ اللہ سے تعلق رکھتے ہیں، جیسے: فرائض و محرمات کو نظر انداز کرنا ، جبکہ ان کا تاکیدی حکم یا ممانعت قرآن کریم یا احادیث مبارکہ میں مذکور ہے۔
اسی طرح بعض گناہ حقوقُ العباد سے تعلق رکھتے ہیں مگر چونکہ ان کی بھی ممانعت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اس لئے ان کا تعلق حقوق اللہ سے بھی ہے جیسے: غیبت ، تہمت ، وعدہ خلافی ، دھوکہ ، ایذاء اور قطع رحمی وغیرہ۔
حقوقُ العباد نسبتاً زیادہ سنگین ہیں، کیونکہ ان کی معافی صرف توبہ سے نہیں بلکہ متعلقہ بندے کے معاف کرنے سے مشروط ہوتی ہے۔
اگر کوئی شخص عبادت گزار تو ہو مگر کبیرہ گناہوں سے نہ بچتا ہو ، اس کی مثال اس کنویں کی طرح ہے جس میں کوئی چوہا مرجائے پھر اس کنویں کا پانی پاک کرنے کے لئے کوئی شخص اس کا پانی مسلسل نکالتا رہے مگر مردہ چوہے کو باہر نہ نکالے ، تو کنوے کا پانی پاک نہیں ہو سکے گا کیونکہ اصل ناپاکی کنویں کے اندر موجود ہے۔
اسے پاک کرنے کے لئے پہلے گندگی باہر نکالنی ہوگی ۔جب تک اسے باہر نہیں نکالا جائے گا کنوے سے پانی کتنا بھی نکال دیا جائے وہ پاک نہیں ہوگا ۔
بالکل یہی حال انسان کا ہے۔ اگر اس کی زندگی تکبر ،حسد، کینہ، دھوکہ، جھوٹ ،بدعہدی ، غیبت، تہمت ، خیانت یا دیگر گناہوں سے آلودہ ہے ، اور ساتھ ہی وہ کچھ ظاہری عبادات بھی انجام دیتا ہے، تو اس کی زندگی اسی کنویں کی مانند ہے جس سے پانی تو نکالا جا رہا ہے مگر نجاست اس کے اندر ہی ہے جس سے اس کی روح اس کے اخلاق آلودہ ہیں ۔
عبادتوں کی روشنی اُس وقت تک دل میں حقیقی نور پیدا نہیں کرتی جب تک گناہوں کی تاریکی دل سے باہر نہ نکالی جائے۔
:اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
يَا أَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (البقرۃ)
اے لوگو! اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا تاکہ تم متقی بن جاؤ۔
یہاں عبادت کا اصل ثمرہ “تقویٰ” بیان کیا گیا ہے۔
:اسی طرح روزے کا مقصد بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ( البقرة 183)
اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم میں تقویٰ پیدا ہو۔
ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ عبادتوں کا اصل مقصد صرف جسمانی مشقت یا ظاہری اعمال نہیں بلکہ “تقویٰ” ہے۔
اور تقویٰ یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچے، حرام سے اجتناب کرے، ظلم سے دور رہے، اور ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقدم رکھے۔
:اسی طرح نماز کا فائدہ بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ ( العنكبوت 45 )
بے شک نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے۔
اگر نماز پڑھنے کے باوجود انسان منکرات سے باز نہ آئے ، جھوٹ بولتا رہے، وعدہ کا کوئی پاس و لحاظ نہ ہو ، لوگوں کا حق مارے ، دوسروں کو اذیت دیتا ہو ، والدین جیسے محسن کے حقوق کا بھی اسے خیال نہ ہو تو اسے اپنی نماز پر نظرِ ثانی کرنے کی ضرورت ہے کہ کہیں اس کی نماز محض کچھ ظاہری ایکٹیویٹی بن کر تو نہیں رہ گئی ہے ؟
آج امتِ مسلمہ کا ایک بڑا المیہ یہی ہے کہ عبادات کی ظاہری صورتیں تو موجود ہیں مگر ان کے اثرات زندگی سے غائب ہوتے جا رہے ہیں۔
مسجدیں آباد ہیں مگر بازاروں میں دھوکہ عام ہے۔ قرآنِ کریم پڑھنے کی آوازیں گھروں سے بلند ہو رہی ہیں مگر اس کے احکام سے عملی دلچسپی کم ہوتی جا رہی ہے۔
: نبی کریم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں
إِنَّ مِنْ شَرِّ النَّاسِ …. مَنْ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَلَا يَرْعَوِي إِلَيْهِ ( نسائی ، احمد )
بدترین لوگوں میں سے وہ شخص ہے جو قرآن کریم پڑھتا ہے مگر اس کی تعلیمات کی طرف توجہ نہیں دیتا۔
آج کل لوگ نفلی عبادتوں کا خوب اہتمام کرتے ہیں مگر والدین، رشتہ داروں، پڑوسیوں اور کمزوروں کے حقوق اور بہت سے اعمال جو ان کے ذمہ فرض ہیں ، پامال کرتے نظر آتے ہیں۔
بہت سے لوگ تو بہنوں کو وراثت کے حق سے محروم رکھتے ہیں اور خود کو دیندار بھی سمجھتے ہیں ۔
میراث کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کی مکمل تفصیل اللہ تعالیٰ نے خود قرآن کریم میں بیان فرمائی ہے اور اسے بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا
تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ ۚ ……… وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُ يُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِيهَا وَلَهُ عَذَابٌ مُهِينٌ ۔ ( النساء: 13-14)
یہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدیں ہیں۔……اور جو اللہ تعالیٰ اور ان کے رسول کی نافرمانی کریگا اور ان کی حدوں سے تجاوز کریگا، اللہ تعالیٰ اسے جہنم میں داخل کریں گے ، جس میں وہ ذلیل ہو کر رہے گا۔
سچی اور حقیقی عبادت کے زیر اثر انسان نرم دل، عادل، پاکیزہ، سچا اور خدا ترس بنتا ہے لیکن اگر اس کی عبادتوں کا اثر اس کے کردار پر نہیں پڑ رہا ہے تو عبادت بے نتیجہ ہے۔
در اصل عبادتوں کا مقصد ہی تقوی ہے جس کا ذكر قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں جابجا موجود ہے ۔
:نبی کریم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں
رُبَّ صَائِمٍ حَظُّهُ مِنْ صِيَامِهِ الْجُوعُ وَالْعَطَشُ، وَرُبَّ قَائِمٍ حَظُّهُ مِنْ قِيَامِهِ السَّهَرُ۔ (ابن ماجه)
بہت سے روزہ رکھنے والے ایسے ہیں جنہیں اپنے روزے سے بھوک اور پیاس کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا، اور بہت سے رات کو قیام کرنے والے ایسے ہیں جنہیں اپنے قیام سے صرف جاگنا نصیب ہوتا ہے۔
یعنی اگر روزہ انسان کو گناہوں سے نہ روکے، زبان کو جھوٹ سے، دل کو کینہ سے اور ہاتھ کو ظلم سے نہ بچائے، تو وہ روزہ اپنی حقیقی روح کھو دیتا ہے۔
ظاہر ہے اگر روزہ دار روزہ کی حالت میں کھانے پینے وغیرہ جیسی حلال و جائز چیزوں سے رک سکتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں اور بڑے بڑے گناہوں سے باز کیوں نہیں آسكتا ؟
قیامت کے دن ایک شخص اپنی نمازوں، روزوں اور عبادات کے باوجود “مفلس” قرار دیا جائے گا، کیونکہ وہ لوگوں کی برائیاں کرتا تھا، تہمتیں لگاتا تھا، کسی کا مال ناجائز طور پر کھاتا تھا اور کسی پر ظلم کرتا تھا۔
: نبی کریم ﷺ نے صحابہ سے سوال کیا
أَتَدْرُونَ مَا الْمُفْلِسُ؟
قَالُوا: الْمُفْلِسُ فِينَا مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهُ وَلَا مَتَاعَ.
فَقَالَ: إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلَاةٍ وَصِيَامٍ وَزَكَاةٍ، وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ هَذَا، وَقَذَفَ هَذَا، وَأَكَلَ مَالَ هَذَا، وَسَفَكَ دَمَ هَذَا، وَضَرَبَ هَذَا، فَيُعْطَى هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْضَى مَا عَلَيْهِ، أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ، ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ۔ (صحیح مسلم)
“کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟”
:صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا
“ہم میں مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ درہم ہو اور نہ سامانِ زندگی۔” یعنی روپیہ ، پیسہ نہ ہو ۔
:آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا
میری امت کا مفلس وہ شخص ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے گا، لیکن اس حال میں آئے گا کہ اس نے کسی کی برائی کی ہوگی، کسی پر تہمت لگائی ہوگی، کسی کا مال کھایا ہوگا، کسی کا خون بہایا ہوگا اور کسی کو مارا اور ستایا ہوگا۔ پھر اس کی نیکیاں ان لوگوں میں تقسیم کر دی جائیں گی جنہیں اس نے ستایا ہوگا۔ اگر اس کی نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو ان لوگوں کے گناہ اس شخص پر ڈال دیے جائیں گے، اور اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔
اسی لئے اسلام نے عبادتوں کے حکم کے ساتھ ہر ظاہری و باطنی گناہوں سے بچنے کی تاکید فرمائی ہے ۔
:اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
وَذَرُوا ظَاهِرَ الْإِثْمِ وَبَاطِنَهُ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَكْسِبُونَ الْإِثْمَ سَيُجْزَوْنَ بِمَا كَانُوا يَقْتَرِفُونَ (الأنعام: 120)
اور ظاہری اور پوشیدہ ہر قسم کے گناہ چھوڑ دو۔ بے شک جو لوگ گناہ کماتے ہیں انہیں ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔
در اصل عبادت اور گناہ ایک دوسرے کی ضدیں ہیں۔ عبادت دل کو پاک کرتی ہے جبکہ گناہ اسے سیاہ کر دیتے ہیں۔
:اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَىٰ قُلُوبِهِم مَّا كَانُوا يَكْسِبُونَ (المطففین: 14)
ہرگز نہیں! بلکہ ان کے اعمال (گناہوں) نے ان کے دلوں کو زنگ آلود کر دیا ہے۔
عبادت روح کو زندہ کرتی ہے جبکہ گناہ روحانی موت کا سبب بنتے ہیں۔
:اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ (الأنفال: 24)
اے ایمان والو! اللہ اور رسول کی پکار پر لبیک کہو جب وہ تمہیں اُس چیز کی طرف بلائیں جو تمہیں زندگی بخشتی ہے۔
مفسرین فرماتے ہیں کہ یہاں “زندگی” سے مراد روحانی زندگی، ایمان، ہدایت اور دل کی حیات ہے، جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور عبادت سے حاصل ہوتی ہے۔
اگر کوئی شخص ایک طرف سجدے کرے اور دوسری طرف بندوں کے حقوق پامال کرے، ایک طرف قرآنِ کریم پڑھے اور دوسری طرف اس کی تعلیمات و ہدایات کو نظر انداز کرے تو وہ گویا اپنے ہی ہاتھوں اپنی عبادتوں کی تاثیر ختم کر رہا ہے۔
حقیقی دینداری یہ نہیں کہ انسان صرف کچھ ظاہری عبادتوں میں مشغول رہے، بلکہ حقیقی دینداری یہ ہے کہ اس کی عبادتوں کا اثر اخلاق، کردار، معاملات اور پورے طرزِ زندگی میں نمایاں ہو۔
اس کی زبان پاک ہو، اس کی کمائی حلال ہو، اس کا دل صاف ہو، اور اس کے ہاتھوں سے کسی انسان کو تکلیف نہ پہنچے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:
اَلْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ النَّاسُ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ، وَالْمُؤْمِنُ مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ عَلَىٰ دِمَائِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ۔ (ترمذی ، نسائی)
حقیقی مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے لوگ محفوظ رہیں، اور حقیقی مومن وہ ہے جس سے لوگ اپنی جانوں اور مال کے بارے میں بے خوف اور مطمئن ہوں ۔
حاصل یہ کہ عبادتوں کی حقیقی تاثیر اسی وقت ظاہر ہوتی ہے جب انسان اپنی ظاہری عبادات کے ساتھ اپنے عقائد، اخلاق، معاملات اور باطنی کیفیت کی بھی اصلاح کرے۔
قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ نے جن اعمال کا حکم دیا ہے اور جن سے منع فرمایا ہے، انہی سے اسلام کا حقیقی اور مکمل تصور سامنے آتا ہے۔
چنانچہ جن امور کی خلاف ورزی پر وعید، عذاب، لعنت یا غضبِ الٰہی کا ذکر آیا ہے، وہ معمولی لغزشیں نہیں بلکہ ایسے کبیرہ گناہ ہیں جو انسان کے ایمان، عبادت اور روحانی زندگی کو کھوکھلا کر دیتے ہیں۔
اسی حقیقت کے پیشِ نظر اسلام نے صرف عبادتوں کی ظاہری ادائیگی کو کافی نہیں قرار دیا بلکہ فرائض کی ادائیگی اور محرمات سے اجتناب ، دونوں کو لازم قرار دیا ہے۔
کیونکہ عبادت اگر انسان کو تقویٰ، خوفِ خدا، پاکیزگیِ نفس، حسنِ اخلاق اور حقوقُ العباد کی ادائیگی کی طرف نہ لے جائے تو وہ اپنی حقیقی روح اور تاثیر کھو دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنِ کریم نے نماز کو فحاشی اور منکر سے روکنے والی، اور روزے کو تقویٰ پیدا کرنے والی عبادت قرار دیا ہے۔
یہ بھی یاد رہے کہ جن بڑے گناہوں سے بچنا ہر مسلمان پر فرض ہے، اُن کا علم حاصل کرنا بھی فرض ہے؛ کیونکہ کسی برائی سے حقیقی اجتناب اُس وقت تک ممکن نہیں جب تک اس کی حقیقت، قباحت اور شرعی حیثیت کا شعور نہ ہو۔
اسی لیے فرائض و محرمات کا علم جو قرآنِ کریم اور سنتِ نبوی ﷺ میں ہے اسے حاصل کرنا ہر مسلمان کی دینی ذمہ داری ہے۔
بدقسمتی سے آج اسلام کا ایک محدود اور سطحی تصور عام ہو چکا ہے، جس میں دین کو چند رسمی عبادات اور ظاہری اعمال تک محدود کر دیا گیا ہے، حالانکہ اسلام ایک ہمہ گیر نظامِ حیات ہے جو انسان کے ظاہر و باطن، عبادات و معاملات، اخلاق و معاشرت اور حقوقُ اللہ و حقوقُ العباد ، سب پر محیط ہے۔
اس فکری انحراف کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اسلام کے اصل سرچشموں سے تعلق کمزور کر لیا ہے، جس کے نتیجے میں عبادتوں کی روح، اخلاقی پاکیزگی اور تقویٰ کی حقیقی کیفیت بھی زندگیوں سے کم ہوتی چلی گئی۔
حالانکہ قرآن و سنت کے اوامر و نواہی انسانی فطرت کے عین مطابق ہیں۔
ظلم، جھوٹ، خیانت، دھوکہ، تکبر، غیبت، تہمت اور حق تلفی جیسے گناہوں کی قباحت انسانی ضمیر خود محسوس کرتا ہے، جبکہ عدل، امانت، سچائی، رحم، دیانت اور احسان کی خوبی ہر سلیم الفطرت انسان پر واضح ہے۔
قرآنِ کریم دراصل انسان کے اندر اسی فطری اخلاقی شعور کو بیدار کرتا اور اُسے ایک متوازن و پاکیزہ زندگی عطا کرتا ہے۔
لہٰذا حقیقی دینداری یہ نہیں کہ انسان صرف نماز، روزہ، تلاوت اور اذکار کی کثرت پر مطمئن ہو جائے، بلکہ حقیقی دینداری یہ ہے کہ اس کی عبادتیں اس کے اخلاق، کردار، معاملات اور پورے طرزِ زندگی میں نمایاں ہوں۔ اس کی زبان دوسروں کو اذیت نہ دے، اس کے ہاتھ ظلم سے پاک ہوں، اس کی کمائی حلال ہو، اس کا دل حسد، کینہ اور تکبر سے صاف ہو، اور اس کی زندگی اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور بندوں کے حقوق کی ادائیگی کا عملی نمونہ بن جائے۔
کیونکہ جب تک زندگی کے “کنویں” سے گناہوں کا “مردار” باہر نہیں نکالا جائے گا، اُس وقت تک عبادتوں کا پانی حقیقی روحانی پاکیزگی، نورِ ایمان اور تقویٰ پیدا نہیں کر سکے گا



