اسلام میں ترجیحات کے اصول: ایک تجزیاتی مطالعہ

اسلام ایک ہمہ گیر اور متوازن نظامِ حیات ہے جو انسان کی فکری، روحانی، اخلاقی اور عملی زندگی کے ہر پہلو کی رہنمائی کرتا ہے۔ اس جامع نظام کی ایک نہایت اہم جہت ترجیحات کا درست تعین ہے۔
درحقیقت انسان کی کامیابی کا دار و مدار اسی بات پر ہے کہ وہ اپنی زندگی کے مختلف امور میں صحیح ترجیح قائم کرے ۔ اگر ترجیحات درست ہوں تو معمولی اعمال بھی بابرکت ہو جاتے ہیں، اور اگر ترجیحات بگڑ جائیں تو بڑے بڑے اعمال بھی اپنی تاثیر کھو دیتے ہیں۔ ترجیحات سے مراد یہ ہے کہ انسان اہم اور غیر اہم، یا اہم اور اہم تر امور میں فرق کر سکے اور اپنی توانائی، وقت اور وسائل کو درست ترتیب کے ساتھ استعمال کرے۔
انسانی زندگی چونکہ محدود وسائل اور بے شمار تقاضوں کا مجموعہ ہے، اس لیے ترجیحات کا شعور ناگزیر ہے۔ اسلام اس شعور کو نہ صرف اجاگر کرتا ہے بلکہ اس کے لیے واضح اصول بھی فراہم کرتا ہے۔

الله تعالي ارشاد فرماتے ہیں
أَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجِّ… كَمَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَجَاهَدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ (التوبة: 19)
کیا تم حاجیوں کو پانی پلانے والے کو اس شخص کے برابر قرار دیتے ہو جو اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان لے آیا اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کیا ؟
ظاہر ہے حاجیوں کی خدمت ایمان و جہاد کے برابر نہیں ہو سکتے ۔۔
اس سے ایک بات یہ تو ثابت ہو جاتی ہے کہ اعمال میں مراتب کا فرق رکھا گیا ہے ، ہر عمل برابر نہیں ہے ، بعض اعمال دوسروں سے زیادہ اہم ہیں۔
اسلامی تعلیمات میں سب سے پہلی ترجیح فرائض کو دی گئی ہے، کیونکہ یہی دین کی بنیادیں ہیں۔
حدیثِ قدسی ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں
وما تقرب إلي عبدي بشيء أحب إلي مما افترضت عليه (بخاری)
کہ بندہ اللہ تعالیٰ کا سب سے زیادہ قرب فرائض کے ذریعے حاصل کرتا ہے۔
شارحین حدیث لکھتے ہیں
الفرائض هي الأساس الذي لا يقوم الدين إلا به، وهي أحب ما يتقرب به العبد إلى الله، كما في الحديث القدسي: “وَمَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِي بِشَيْءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَيْهِ” [البخاري].
النوافل (السنن والمستحبات) لا تكتسب قيمتها الكاملة ولا تُحقق مقصودها الأعظم في جبر النقص إلا بعد الالتزام بالفرائض. مفهوم “من شغلته الفريضة عن النافلة”: إذا انشغل العبد بأداء ما افترض الله عليه كطلب العلم الواجب، أو بر الوالدين، أو كسب الرزق الحلال عن بعض النوافل، فهو معذور بل هو أقرب إلى الله ممن يترك الفرائض أو يقصر فيها ليؤدي نوافل غير مقصودة لذاتها إذا فوتت الفرائض.
النوافل مُكملة: إذا أدى العبد الفرائض، كانت النوافل طريقاً لزيادة القرب، ورفع الدرجات، وجبر النقص الذي قد يحدث في الفرائض.
فرائض دین کی بنیادیں ہیں، جن کے بغیر دین قائم نہیں رہ سکتا۔ یہ وہ اعمال ہیں جو اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہیں، جیسا کہ حدیثِ قدسی میں ہے کہ
میرا بندہ کسی بھی چیز کے ذریعے میرا اتنا قرب حاصل نہیں کرتا جتنا ان اعمال کے ذریعے کرتا ہے جو میں نے اس پر فرض کیے ہیں۔ (بخاری)
نوافل (سنن و مستحبات) اپنی مکمل قدر و قیمت اسی وقت حاصل کرتے ہیں جب بندہ پہلے فرائض کی پابندی کرے۔
نوافل کا اصل مقصد فرائض میں ہونے والی کمی کو پورا کرنا ہے، اور یہ مقصد اس وقت تک حاصل نہیں ہوتا جب تک فرائض ادا نہ کیے جائیں۔
اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے فرض کردہ کاموں جیسے ضروری علم حاصل کرنا، والدین کی خدمت کرنا، یا حلال روزی کمانا وغیرہ میں مصروف ہونے کی وجہ سے کچھ نوافل انجام نہ دے سکے، تو وہ معذور ہے بلکہ وہ اس شخص سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے قریب ہے جو فرائض کو چھوڑ کر یا ان میں کمی کر کے نوافل میں مشغول ہو جائے۔
جب بندہ فرائض ادا کر لیتا ہے تو نوافل اس کے لیے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے، درجات بلند کرنے اور فرائض میں ہونے والی کمی کو پورا کرنے کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں
قال: أَتِمُّوا لعبدي فريضتَه مِن تطوُّعِه. ثمَّ تؤخَذُ الأعمالُ على ذاكم ( ابوداؤد ، نسائی ، ترمذی ‘ احمد )
کہ حساب وکتاب کے دن اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائیں گے ،
میرے بندے کے فرض (میں کمی ) کو اس کی نوافل کے ذریعے پورا کر دو۔
یعنی نوافل کی حیثیت ثانوی ہے اور ان کی قبولیت بھی فرائض کی ادائیگی پر موقوف ہے۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اپنی آخری وصیت میں فرمایا تھا

اتق الله يا عمر ، واعلم أن لله عز وجل عملا بالنهار لا يقبله بالليل ، وعملا بالليل لا يقبله بالنهار، وأنه لا يقبل نافلة حتى تؤدى الفريضة
اے عمر! اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو، اور جان لو کہ دن کے اعمال رات میں کئے جائیں تو قبول نہیں ہوتے اور رات کے اعمال دن میں کئے جائیں تو بھی قبول نہیں ہوتے یعنی ہر عمل اپنے وقت اور نظام کے مطابق کیا جانا چاہئے۔ اور اللہ تعالیٰ کوئی نفل اس وقت تک قبول نہیں کرتے جب تک فرض ادا نہ کیا جائے۔
(حلیة الأولیاء لأبی نعیم الاصفہانی (متوفی 430ھ ))

یعنی جس طرح شریعت نے نماز، روزہ اور دیگر عبادات کے لیے اوقات مقرر کیے ہیں اور ان کی ادائیگی کو انہی اوقات کے ساتھ مشروط کیا ہے، انہیں بے وقت ادا کرنا قابل قبول نہیں ہے ۔ اسی طرح بندوں کے حقوق کی ادائیگی بھی اپنے مناسب وقت کی پابند ہے۔ اگر کوئی ضرورت مند بھوکا ہے اور اسے وقت پر کھانا فراہم نہ کیا جائے، یا کوئی مظلوم مدد کا طالب ہو اور اس کی داد رسی میں تاخیر کی جائے، تو اگرچہ بعد میں اس کی مدد کر دینا بظاہر نیکی ہے، لیکن وہ اپنے اصل اثر اور مقصد کو کھو دیتی ہے۔ اس لیے کہ حق کی ادائیگی میں تاخیر، درحقیقت ایک طرح کی کوتاہی شمار ہوتی ہے۔
اسلام ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ ہم نہ صرف نیکی کریں بلکہ اسے بروقت انجام دیں، کیونکہ بہت سی نیکیوں کی قدر و قیمت ان کے وقت کے ساتھ وابستہ ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں نیکیوں میں سبقت کی ترغیب دی گئی ہے، تاکہ انسان خیر کے مواقع کو ضائع نہ کرے بلکہ انہیں ان کے مناسب وقت پر ادا کر کے حقیقی اجر و فضیلت کا مستحق بنے۔ اور رات میں نوافل کی ادائیگی سے دن کے حقوق و فرائض میں کوتاہی معاف نہیں ہوگی ۔

علامہ ابن تیمیہ لکھتے ہیں کہ
ان لم یکن العبد قد أدی الفرائض کما أمر لم یحصل له مقصود النوافل ( المجموع)
اگر بندے نے فرائض کو اس طرح ادا نہیں کیا جس طرح (اللہ تعالیٰ کا) حکم ہے، تو اس کے لئے، نوافل کی ادائیگی لا حاصل ہے ۔

نوافل کی اہمیت بھی اپنی جگہ مسلم ہے، مگر فرائض کی ادائیگی کے بعد ۔ وہ فرائض کا تکملہ تو بن سکتی ہیں ، متبادل نہیں ۔ کیونکہ بنیادی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے بغیر اضافی اعمال بے معنی ہوتے ہیں۔
عقل و شعور کا بھی یہی تقاضا ہے کہ اگر کسی کے ذمہ قرض یا دیگر واجب حقوق ہوں تو سب سے پہلے انہیں ادا کرے۔ اس کے بعد جو اور جتنی چاہے سخاوت و خیرات کرتا رہے ۔ لیکن قرض اور دیگر حقوق ، جن کی ادائیگی فرض ہے ، ان سے پہلو تہی کر کے اپنی سخاوت کا اظہار کرنا نہ عقلاً درست ہے اور نہ شرعاً قابلِ قبول۔
ایک اعتدال پسند مسلمان کے نزدیک معیار ، مقدار پر مقدم ہوتا ہے ، پہلے وہ اپنے فرائض کو مکمل کرتا ہے، پھر نوافل کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ وہ ہمیشہ ضروری اور غیر ضروری امور میں توازن قائم رکھتا ہے ۔
اور اسلام چونکہ ایک مکمل معاشرتی نظام بھی ہے ، اس لیے اس میں حقوق اللہ (عبادات) اور حقوق العباد (معاملات و اخلاقیات) دونوں کو یکساں اہمیت حاصل ہے۔
ایک طرف نماز، روزہ اور دیگر عبادات انسان کو اللہ تعالیٰ سے جوڑتی ہیں، تو دوسری طرف سچائی، امانت داری، عدل و انصاف اور حسنِ سلوک کا عمل معاشرے کو سنوارتے ہیں۔
اگر ان دونوں میں سے کسی ایک کو بھی نظر انداز کر دیا جائے تو توازن بگڑ جاتا ہے۔
حقیقی دیندار وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کرے اور اللہ تعالیٰ کی حکم کے مطابق بندوں کے بھی۔

اسلامی فکر کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ وہ صرف اچھے اور برے میں فرق نہیں کرتا بلکہ اہم اور اہم تر میں بھی امتیاز سکھاتا ہے۔ یہی امتیاز انسان کو درست فیصلہ کرنے کے قابل بناتا ہے۔ مثلاً
جان کی حفاظت کو بعض دیگر احکام پر مقدم کیا جاتا ہے ۔
اجتماعی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دی جاتی ہے ۔

اس طرح کے اصول ، فقہ اسلامی میں فقہ الأولویات (فقہِ ترجیحات) کے نام سے جانا جاتا ہے ، جو حالات کے مطابق بہترین فیصلہ کرنے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
ایک ایسا معاشرہ جہاں ہر فرد صرف اپنے فائدے کا سوچے، وہاں انتشار اور ناانصافی پیدا ہوتی ہے، جبکہ اسلام ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینا چاہتا ہے جہاں ہر فرد دوسروں کے لیے بھی آسانی کا ذریعہ بنے۔

اسلام کا ایک بنیادی اصول یہ بھی ہے کہ نقصان سے بچنا، فائدہ حاصل کرنے سے زیادہ اہم ہے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُهُمَا أَكْبَرُ مِن نَّفْعِهِمَا
(البقرہ: 219)
ان دونوں ( شراب اور جوئے ) میں بڑا گناہ ہے اور بظاہر لوگوں کا فایدہ بھی ہے مگر گناہ سے بچنا فایدہ سے زیادہ اہم ہے ۔
اس آیت میں شراب اور جوا کا ذکر ہے کہ ان میں کچھ فائدے بھی ہیں، لیکن چونکہ ان کا نقصان زیادہ ہے، اس لیے انہیں حرام قرار دیا گیا۔
قرآن کریم کا یہ اصول انسان کو جذباتی فیصلوں سے بچاتا ہے اور اسے حکمت و بصیرت کے ساتھ عمل کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اس کے ذریعے انسان ایسے کاموں سے دور رہتا ہے جن میں وقتی فائدہ ہو مگر طویل المدت نقصان ہو۔
جس طرح قرآنِ کریم کے احکام کا مرحلہ وار نزول ہمیں بتاتا ہے کہ اسلامی نظام میں اصلاح اور عمل کا طریقہ تدریجی ہے اس طرح ترجیحات بھی ہیں جنہیں حالات اور استعداد کے مطابق ترتیب دینا چاہیے۔

احادیث مبارکہ میں بارہا یہ منظر سامنے آتا ہے کہ کئی لوگ بارگاہِ رسالت ﷺ میں حاضر ہوئے، اور سب کی زبان پر ایک ہی سوال تھا
یا رسول اللہ! سب سے افضل عمل کون سا ہے؟
لوگوں کا سوال ایک تھا، مگر جواب ہر بار نیا رنگ لیے ہوتا تھا۔
کسی کو فرمایا: برّ الوالدین (والدین کے ساتھ حسنِ سلوک۔)
کسی کو ارشاد ہوا: الصلاۃ علی وقتھا (نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا۔)
کسی کو بتایا: الجہاد فی سبیل اللہ (اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔)
اور کسی کے لیے فرمایا: قرآنِ کریم کی تعلیم و تعلم۔
بظاہر ان جوابات میں تضاد لگتا ہے، مگر حقیقت میں یہ تنوع ، حکمتِ نبوی ﷺ کا درخشاں مظہر ہے۔
یہ اختلاف و تضاد نہیں، بلکہ ہر دل کی دھڑکن کو سننے والی رہنمائی ہے، ہر روح کے مرض کی مطابق دوا ہے۔
نبی کریم ﷺ کے جوابات ترجیحی بنیاد پر تھے جو سائل کے باطن، اس کی ضرورت، اس کی استعداد اور اس کے حالات پیشِ نظر تھے۔
اسلام ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ نیکی کی راہیں بے شمار ہیں، مگر ان میں سب سے اعلیٰ وہ ہے جو وقت کے تقاضے کے مطابق ہو، انسان کی ذمہ داریوں سے ہم آہنگ ہو اور اللہ کی رضا کے زیادہ قریب ہو۔
حقیقت یہی ہے کہ ہر وقت کا افضل عمل، اسی وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہوتا ہے۔
اور یہی دین کی اصل حکمت اور حسن ہے۔
موجودہ دور میں انسان معلومات کی کثرت، مصروفیات کے دباؤ اور ترجیحات کے انتشار کا شکار ہے۔ ایسے میں اسلامی اصولِ ترجیحات کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ عبادات کو رسمی نہ بنایا جائے بلکہ ان کی روح کو سمجھا جائے۔ اخلاق اور معاملات کو دین کا لازمی حصہ مانا جائے
وقت، صلاحیت اور وسائل کو درست ترجیح کے ساتھ استعمال کیا جائے۔
اسلام کے ترجیحاتی نظام سے دراصل ایک ایسا متوازن فکری و عملی خاکہ حاصل ہوتا ہے جو انسان کو افراط و تفریط سے بچا کر اعتدال کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔
یہ نظام ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم اپنی زندگی کو اصولوں کے تحت منظم کریں، فرائض کو مقدم رکھیں، حقوق اللہ اور حقوق العباد میں توازن قائم کریں اور ہر معاملے میں حکمت و بصیرت سے کام لیں۔
اور حقوق العباد بھی چونکہ اللہ تعالیٰ ہی کے احکام ہیں اس لئے اس کی اہمیت دو چند ہو جاتی ہے ۔
مگر دورِ حاضر کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے دین کو کچھ رسمی عبادتوں میں محدود کر دیا ہے ۔
اسی طرح بعض امور میں شدت اختیار کر لی اور بعض کو بالکل نظر انداز کر دیا۔
خصوصاً فرائض اور نوافل کے درمیان توازن بگڑ جانا ایک سنگین فکری و عملی مسئلہ بن چکا ہے۔
جب کہ فرائض، وہ لازمی احکام ہیں جن کی ادائیگی ہر مسلمان پر ضروری ہے، خواہ وہ عبادات سے متعلق ہوں جیسے نماز، روزہ اور زکوٰۃ وغیرہ،
یا اخلاقیات سے متعلق ہوں جیسے تواضع ، شفقت ، مساوات ، احترام انسانیت ، اکرام مسلم اور خلق خدا کے ساتھ خیر خواہی وغیرہ
یا معاملات سے جیسے سچائی، وعدہ وفائی اور امانت داری عدل و انصاف ، ادائیگی حقوق وغیرہ ۔
ان کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کا ترک ، اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور گناہِ کبیرہ کا سبب بنتا ہے۔
بدقسمتی سے آج بہت سے لوگ نوافل میں تو بڑی محنت اور شوق کا مظاہرہ کرتے ہیں، مگر فرائض خصوصاً اخلاقی و معاملاتی فرائض کو بالکل نظر انداز کر دیتے ہیں۔
یہی وہ تضاد ہے جو ہمارے معاشرے میں نمایاں نظر آتا ہے۔
ایک شخص تہجد، اشراق اور دیگر نوافل کا اہتمام تو کرتا ہے، مگر اس کی زبان جھوٹ سے آلودہ ہوتی ہے، وہ وعدہ خلافی کرتا ہے، اور امانت میں خیانت سے بھی نہیں ہچکچاتا۔ حالانکہ اسلام میں عبادت کا اصل مقصد انسان کے کردار کو سنوارنا ہے، نہ کہ محض ظاہری اعمال کی کثرت۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں :
یاایھا الناس اعبدوا ربکم الذی خلقکم والذین من قبلکم لعلکم تتقون ۔ ( البقرة 21)
اے لوگو اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تمھارے آباء و اجداد کو پیدا کیا ہے تاکہ تم متقی بن جاؤ ۔
اگر کوئی شخص فرائض کو ترک کر کے نوافل میں مشغول ہو جائے تو اس کا یہ عمل دینی ترتیب کے خلاف ہے۔
ایسے اعمال نہ تو اس کے لیے حقیقی نفع کا باعث بنتے ہیں اور نہ ہی وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبولیت کا درجہ حاصل کر پاتے ہیں جس کی وہ امید رکھتا ہے۔
یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی کسی بوسیدہ اور جھرجھری عمارت کو باہر سے رنگین و خوبصورت بنانے میں لگا ہوا ہو مگر اس کی بنیاد و دیوار کو مضبوط نہ کرے۔
دین کا تقاضا یہ ہے کہ انسان سب سے پہلے اپنے فرائض ادا کرے، خواہ وہ خالص حقوق اللہ (عبادات) ہوں یا حقوق اللہ اور حقوق العباد کا امتزاج یعنی اخلاقیات ، معاملات اور معاشرت سے متعلق ہوں ، اور پھر نوافل کے ذریعے اپنے ایمان اور تعلقِ الٰہی کو مزید مضبوط بنائے۔ ہم سب کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے اعمال کا جائزہ لیں، اپنی ترجیحات کو درست کریں، اور دین کو اس کے اصل مزاج کے مطابق اختیار کریں۔ سچائی، دیانت داری اور وعدہ وفائی کو اسی اہمیت کے ساتھ اپنائیں جس طرح نماز اور روزہ کو اہم سمجھتے ہیں۔ کیونکہ اسلام میں صرف کچھ عبادتیں ہی فرض نہیں ہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں اللہ تعالیٰ کے احکام کی پابندی فرض ہے ۔
اسلام میں لفظ “فرض” ایک شرعی اصطلاح ہے۔ عبادات، معاملات، معاشرت اور اخلاقیات کے احکام میں اس لفظ کا مرکزی کردار ہے۔
قرآن کریم اور احادیث نبویہ میں یہ لفظ اور اس کے مشتقات متعدد مقامات پر استعمال ہوئے ہیں۔ جن کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ لفظ فرض کا استعمال جس کسی معنی میں بھی ہوا ہو اس میں لازم و ضروری ہونے کا عنصر شامل ہے ۔
مشہور لغوی عالم ، علامہ راغب اصفہانی لکھتے ہیں
الفرض: تقدير الشيء وإيجابه
فرض کسی چیز کو متعین اور لازم قرار دینا ہے۔ (مفردات ألفاظ القرآن)
قرآن کریم میں لفظ فرض اور اس کے مشتقات (فرض، فريضة، مفروض، فرضنا، تفرضوا) متعدد مقامات پر آئے ہیں۔ ان کے سیاق و سباق کے لحاظ سے چند بنیادی مفہوم سامنے آتے ہیں۔
لازم اور واجب کرنا
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
إِنَّ الَّذِي فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لَرَادُّكَ إِلَىٰ مَعَادٍ (القصص: 85)
بے شک جس اللہ تعالیٰ نے آپ پر قرآن کریم کو فرض( لازم ) کیا ہے وہ آپ کو دوبارہ لوٹنے کی جگہ کی طرف لے جائیں گے۔
علامہ ابن کثیر اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں
أي أنزل عليك القرآن وأوجب عليك تبليغه والعمل به (ابن کثیر)
اللہ تعالیٰ نے آپ پر قرآن کریم نازل کیا اور اس کی تبلیغ اور پیروی کو فرض ( لازم ) کیا۔

مہر مقرر کرنا
نکاح کے باب میں فرض کا معنی مہر مقرر کرنا بھی ہے جس کی ادائگی فرض ہے ۔
أَوْ تَفْرِضُوا لَهُنَّ فَرِيضَةً
(البقرة: 236)
احکام کو واضح اور قطعی کرنا.
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
سُورَةٌ أَنْزَلْنَاهَا وَفَرَضْنَاهَا (النور: 1)
علامہ قرطبی لکھتے ہیں
أي بينا أحكامها وفرضنا العمل بها
ہم نے اس کے احکام کو واضح کیا اور ان پر عمل کو لازم قرار دیا۔
احادیث میں بھی لفظ فرض عموماً اللہ تعالیٰ کے لازمی احکام کے لیے استعمال ہوا ہے۔
نبی کریم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں
إن الله فرض فرائض فلا تضيعوها (سنن دارقطني)
اللہ تعالیٰ نے تم پر کچھ فرائض مقرر کیے ہیں لہٰذا انہیں ضائع نہ کرو۔
فقہاء اور اصولیین نے قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں لفظ فرض کے استعمال کے اعتبار سے اس کی تعریف کچھ اس طرح بیان کی ہیں۔
الفرض ما ثبت بدليل قطعي
(اصول السرخسی)
یعنی فرض وہ حکم ہے جو قطعی دلیل سے ثابت ہو۔
الفرض ما يثاب فاعله ويستحق العقاب تاركه۔ (المستصفى للغزالی)
فرض وہ عمل ہے جس کے کرنے پر ثواب اور چھوڑنے پر سزا ہو۔

نیز فقہاء نے فرض کو دو بنیادی انواع میں تقسیم کیا ہے۔
فرض عین / فرض اکفایہ
فرض عین : اللہ تعالیٰ کے وہ احکامات ہیں جو ہر مکلف مسلمان پر الگ الگ لازم ہوں۔ جیسے پانچوں وقت کی نمازیں ، رمضان المبارک کے روزے ، زکوٰۃ اور حج وغیرہ

فرض کفایہ : وہ فرض ہے جسے اگر کچھ مسلمان ادا کر دیں تو باقی مسلمانوں سے ساقط ہو جاتا ہے۔ جیسے نماز جنازہ ، جہاد ، قضاء و افتاء اور دین کی تعلیم وغیرہ۔

اسی طرح فرض کو مکلف کے پیش نظر ، مزید دو حصوں میں تقسیم کیا گیا
1) حقوق اللہ (اللہ تعالیٰ کے حقوق)
2) حقوق العباد (بندوں کے حقوق)۔
حقوق اللہ : وہ فرائض ہیں ، جو خالص اللہ تعالیٰ کی ذاتِ گرامی سے متعلق ہوں یعنی عبادات۔
حقوق العباد : وہ فرائض ہیں ، جو بندوں سے متعلق ہوں جیسے معاملات ، معاشرت اور اخلاقیات۔
ذیل میں کچھ اہم فرائض کا مختصر خاکہ درج ہے جن کا علم ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے ۔

ایمانیات کے فرائض
توحید، رسالت، آخرت پر ایمان
کفر، شرک، نفاق، بدعت سے قطعی اجتناب۔
فرض عبادات
نماز ، روزہ ، زکوٰۃ ،حج
معاشرتی و سماجی فرائض : والدین، اولاد، رشتہ داروں کے حقوق ، پڑوسیوں کے ساتھ حسنِ سلوک ، کمزوروں کی مدد، سچائی، امانت داری، وعدہ وفائی۔
اقتصادی فرائض : حلال رزق کمانا اور سود، رشوت، غصب ، حق تلفی ، خیانت ، دھوکہ دہی سے بچنا۔
ایمانداری پر مبنی شفاف تجارت کرنا۔
حکومتی فرائض : عدل و انصاف قائم کرنا، نیکی کا حکم دینا برائی سے روکنا۔
شخصی و ذاتی فرائض: تزکیۂ نفس یعنی تکبر، حسد، کینہ، بغض، غیبت ، تہمت اور نفرت سے بچنا اور اخلاص ، صبر و شکر، تقویٰ ، محاسبۂ نفس کی صفتیں اپنانا۔
یہ محض چند مثالیں ہیں، ورنہ فرائض کا دائرہ نہایت وسیع ہے۔ درحقیقت فرائض کو سمجھنے کے لیے اتنا سمجھ لینا ہی کافی ہے کہ اللہ رب العزت نے جن امور کا حکم قرآنِ کریم میں صراحت کے ساتھ دیا ہے، ان پر عمل کرنا، اور جن کاموں سے واضح طور پر منع فرمایا ہے، ان سے اجتناب کرنا فرض ہے۔
اب ہر مسلمان کی اولین اور بنیادی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے رب کی طرف سے عائد کردہ ان فرائض کو صحیح طور پر سمجھے، ان کی حقیقت و اہمیت کو دل میں بٹھائے، اور اپنی زندگی میں ان پر عمل کو سب سے مقدم رکھے۔ کیونکہ بندۂ مومن کو بالآخر اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو کر اپنے اعمال ، خصوصاً فرائض ، کا جواب دینا ہے۔
لہٰذا دانائی کا تقاضا یہ ہے کہ انسان سب سے پہلے فرائض کا علم حاصل کرے، ان کی ادائیگی میں کوتاہی نہ کرے، اور اپنی ترجیحات کو اسی اصول کے تحت مرتب کرے۔ وہ ہر معاملے میں یہ دیکھے کہ اللہ تعالیٰ اس سے کیا چاہتے ہیں، اور اسی کے مطابق اپنے اعمال کو ڈھالے۔
کہیں ایسا نہ ہو کہ دین کی نادرست تعبیر اور ترجیحات کے بگاڑ کے باعث ہم اپنی ساری توانائی ان اعمال پر صرف کرتے رہیں جو اپنی حیثیت میں ثانوی یا ان کی شرعاً کوئی حیثیت نہ ہو یعنی ان پر قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں کوئی واضح دلیل موجود نہ ہو ، اور ان بنیادی فرائض سے غافل ہو جائیں جن پر کل اللہ تعالیٰ کے حضور سخت باز پرس ہونی ہے۔
یہ کتنی بڑی محرومی ہوگی کہ انسان ظاہری اعمال کی کثرت میں تو مشغول رہے، مگر اس کی زندگی کے وہ پہلو تشنہ رہ جائیں جنہیں شریعت نے اصل مقصود قرار دیا ہے۔ وہ نوافل میں انہماک دکھائے مگر فرائض میں کوتاہی کرے، مروجہ ذکر و تسبیح میں مصروف ہو مگر حقوق العباد ادا نہ کرے، اور بظاہر دینداری کا نقشہ پیش کرے مگر حقیقت میں ذمہ داریوں سے پہلو تہی اختیار کرے۔
حقیقت یہ ہے کہ دین محض اعمال کی کثرت کا نام نہیں بلکہ درست ترجیح، صحیح فہم اور متوازن عمل کا تقاضا کرتا ہے۔ کامیاب وہی ہے جو ہر عمل کو اس کے مقام پر رکھے، اہم کو اہم تر پر قربان نہ کرے، اور اپنی زندگی کو اسی ترتیب کے مطابق ڈھالے جو اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائی ہے۔
لہٰذا ایک باشعور مسلمان کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے اعمال کا سنجیدگی سے محاسبہ کرے، یہ دیکھے کہ کہیں وہ ثانوی امور میں الجھ کر بنیادی ذمہ داریوں سے غافل تو نہیں ہو رہا ہے۔ کیونکہ انجام کار نجات انہی کے لیے ہے جو دین کو اس کے اصل مزاج کے ساتھ سمجھ کر اپناتے ہیں اور اپنی ترجیحات کو وحی کی روشنی میں درست کرتے ہیں۔

  • Related Posts

    !ہماری عبادتیں بے اثر کیوں ؟ ایک فکری جائزہ

    انسانی زندگی میں اخلاقیات کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ انسان کی حقیقی عظمت نہ اس کی ظاہری شان و شوکت میں ہے، نہ مال و دولت کی فراوانی میں، بلکہ…

    عقیدہ آخرت : عقل و عدل کے تناظر میں۔

    فکر انسانی کی تاریخ میں تین سوالات ایسے ہیں جو ہر دور میں ذہن کو جھنجھوڑتے رہے ہیں۔انسان کی حقیقت کیا ہے ؟انسان زمین پر کہاں سے اور کیوں آیا…

    Leave a Reply

    Your email address will not be published. Required fields are marked *

    مزید پڑھیں

    !ہماری عبادتیں بے اثر کیوں ؟ ایک فکری جائزہ

    !ہماری عبادتیں بے اثر کیوں ؟ ایک فکری جائزہ

    اسلام میں ترجیحات کے اصول: ایک تجزیاتی مطالعہ

    عقیدہ آخرت : عقل و عدل کے تناظر میں۔

    عقیدہ آخرت : عقل و عدل کے تناظر میں۔

    قرآنِ کریم ، ہدایت کا سرچشمہ

    قرآنِ کریم ، ہدایت کا سرچشمہ

    حقوق و فرائض کی ادائیگی :ایمان و تقویٰ کی علامت

    حقوق و فرائض کی ادائیگی :ایمان و تقویٰ کی علامت

    ذکر الله : بندگی کی معراج

    ذکر الله : بندگی کی معراج