انسان کی قدر و منزلت کا حقیقی معیار نہ اس کی نسل ہے، نہ خاندان، نہ برادری، نہ جماعت، نہ مسلک اور نہ ہی کوئی اور ظاہری نسبت۔
بلکہ اصل معیار ایمان، تقویٰ، اخلاص، عدل و انصاف اور صالح کردار ہے۔
جو شخص اپنی فکر و عمل کو خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے وقف کر دے حقیقی ایمان کے ساتھ اچھے اعمال اختیار کرے، وہی ہدایت یافتہ، کامیاب اور فلاح پانے والا ہے، خواہ اس کا تعلق کسی بھی نسل، خاندان، برادری، جماعت، مسلک یا فکری دبستاں سے ہو۔
اسلام دراصل ہر گروہی وابستگی، مسلکی تعصب اور فکری تقسیم سے بالاتر ایک جامع اور عالمگیر دین ہے۔ کسی بھی جماعت، مسلک یا مکتبِ فکر کی حیثیت اسلام میں اسی وقت معتبر اور قابلِ قبول ہوسکتی ہے جب اس کی بنیاد قرآن و سنت کی خالص تعلیمات پر قائم ہو اور اس کی ترجیح ذاتی، گروہی یا مسلکی مفادات کے بجائے حقیقی اسلامی اصول ہوں۔
انسانی تاریخ اس تلخ حقیقت کی گواہ ہے کہ جب بھی حق و انصاف کو چھوڑ کر خاندان، برادری، جماعت، مسلک، سیاسی وابستگی یا گروہی مفاد کو معیارِ حق بنایا گیا، تو ظلم نے جنم لیا، انصاف پامال ہوا، معاشرے انتشار اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئے اور اخلاقی زوال نے انسانیت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
یہی اندھی عصبیت ہے جسے اسلام نے جاہلیت کی بیماری قرار دیا ہے۔
اسلام انسان کو اس تنگ نظری سے نکال کر ایسا بلند کردار ہونےکی دعوت دیتا ہے جہاں انسان ہر قسم کے تعصب، مفاد پرستی اور گروہی وابستگی سے اوپر اٹھکر صرف حق، عدل، دیانت اور رضائے الٰہی کا علمبردار بن جائے۔
اللہ والوں کی حقیقی جماعت وہی ہے جو شخصیتوں، نعروں اور نسبتوں کے بجائے اصولوں کی پیروی کرے، اختلاف میں بھی انصاف کو ہاتھ سے نہ جانے دے، اور ہر حال میں حق بات کہنے اور قبول کرنے کا حوصلہ رکھے۔
:اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
وَالْعَصْرِ ۔ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ ۔إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ (العصر)
زمانے کی قسم! یقیناً سارے انسان خسارے میں ہیں، سوائے اُن لوگوں کے جو ایمان لے آئے، نیک اعمال بجا لائے، اور ایک دوسرے کو حق و صبر کی تلقین کرتے رہے ۔
قرآنِ کریم کا اسلوبِ بیان نہایت واضح، عادلانہ اور آفاقی ہے۔ اس نےنجات، فلاح اور کامیابی کو کسی مخصوص نسل، خاندان، جماعت، طبقے یا مسلک کے ساتھ وابستہ نہیں کیا، بلکہ ایمانِ صحیح اور عملِ صالح کو کامیابی کا حقیقی معیار قرار دیا۔
اس سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک انسان کی اصل قدر و منزلت اس کی ظاہری وابستگیوں سے نہیں، بلکہ اس کے عقیدہ، کردار، اخلاص اور اعمال سے متعین ہوتی ہے۔
چنانچہ سورۂ بقرہ کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہلِ تقویٰ کی صفات بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا
الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ۔ وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ ۔ أُولَٰئِكَ عَلَىٰ هُدًى مِّن رَّبِّهِمْ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ۔
متقی وہ لوگ ہیں جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں، نماز کو قائم کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ رزق میں سے خرچ کرتے ہیں، قرآنِ کریم اور سابقہ آسمانی کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں، اور آخرت پر کامل یقین رکھتے ہیں۔
آخر میں انہی اہلِ ایمان و تقویٰ کے بارے میں فرمایا گیا
أُولَٰئِكَ عَلَىٰ هُدًى مِّنْ رَبِّهِمْ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (البقرۃ: 5)
یہی لوگ اپنے رب کی عطا کردہ ہدایت پر قائم ہیں، اور یہی لوگ حقیقی کامیابی پانے والے ہیں۔
قرآنِ کریم کا فیصلہ بالکل دو ٹوک ہے کہ فلاح و کامیابی کا راستہ گروہی تعصب، نسلی تفاخر یا ظاہری نسبتوں میں نہیں، بلکہ ایمان، تقویٰ، عملِ صالح، حق پسندی اور صبر و استقامت میں مضمر ہے۔
غور کیجیے! یہاں کامیابی کا معیار کسی مخصوص نسل، قبیلے، گروہ یا مسلک کو نہیں، بلکہ ایمان اور اعمال صالحہ کو قرار دیا گیا ۔
گویا اللہ تعالیٰ کے نزدیک اصل اعتبار انسان کے عقیدے، کردار اور عمل کا ہے، نہ کہ اس کی خاندانی یا جماعتی شناخت کا۔
اسی طرح سورۂ بقرہ ہی میں نیکی اور تقویٰ کی حقیقت بیان کرتے ہوئے ارشاد ہے
وَلَٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ وَآتَى الْمَالَ عَلَىٰ حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّائِلِينَ وَفِي الرِّقَابِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَالْمُوفُونَ بِعَهْدِهِمْ إِذَا عَاهَدُوا ۖ وَالصَّابِرِينَ فِي الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِينَ الْبَأْسِ ۗ أُولَٰئِكَ الَّذِينَ صَدَقُوا ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ (البقرہ 177)
نیکی صرف مخصوص سمتوں کی طرف رخ کرنے کا نام نہیں، بلکہ حقیقی نیکی یہ ہے کہ انسان ایمان لے آئے ، مال سے محبت کے باوجود اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق خرچ کرے، نماز و زکوٰۃ کا اہتمام کرے، وعدوں کی پابندی کرے اور آزمائشوں میں صبر و استقامت اختیار کرے۔
:اور آخر میں ارشاد فرمایا
أُولَٰئِكَ الَّذِينَ صَدَقُوا وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ
یہی لوگ اپنے دعوائے ایمان میں سچے ہیں اور یہی حقیقی متقی ہیں۔
اسی طرح سورۂ مؤمنون میں اہلِ ایمان کی صفات بیان کرکے اعلان فرمایا گیا۔
قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ ۔ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ ۔ وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ ۔ وَالَّذِينَ هُمْ لِلزَّكَاةِ فَاعِلُونَ ۔ وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ ۔ إِلَّا عَلَىٰ أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ ۔ فَمَنِ ابْتَغَىٰ وَرَاءَ ذَٰلِكَ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْعَادُونَ ۔ وَالَّذِينَ هُمْ لِأَمَانَاتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رَاعُونَ ۔ وَالَّذِينَ هُمْ عَلَىٰ صَلَوَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ ۔ أُولَٰئِكَ هُمُ الْوَارِثُونَ ـ
کامیاب مومن وہ ہیں جو نماز میں خشوع اختیار کرتے ہیں، لغویات و فضولیات سے بچتے ہیں، زکوٰۃ ادا کرتے ہیں، اپنی پاکدامنی کی حفاظت کرتے ہیں، امانت و عہد کی پاسداری کرتے ہیں اور نمازوں کی پابندی کرتے ہیں۔
:پھر ان کے بارے میں آخر میں فرمایا گیا
أُولَٰئِكَ هُمُ الْوَارِثُونَ ۔ الَّذِينَ يَرِثُونَ الْفِرْدَوْسَ
یہی لوگ جنت الفردوس کے وارث ہیں۔
یہاں بھی جنت کے استحقاق کے لئے ایمان و اعمال صالحہ کا ہی ذکر ہے ۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام جب اپنے مشکل ترین امتحانات میں کامیاب ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا
إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا ۔
میں تمہیں لوگوں کا امام (پیشوا) بنانے والا ہوں۔
:ابراہیم عليه السلام نے عرض کیا
وَمِنْ ذُرِّيَّتِي اور میری اولاد میں سے بھی؟
:تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا
لَا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ (البقرۃ: 124) ظالموں سے میرا کوئی وعدہ نہیں۔
یعنی آپ کی اولاد میں سے ہونا
امام و پیشوا بننے کا معیار نہیں ہے بلکہ معیار ایمان ، انصاف اور عمل صالح ہیں ۔
یہ ساری آیتیں ایک عظیم حقیقت کو نہایت وضاحت کے ساتھ بیان کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت، کامیابی اور نجات کا معیار خود متعین فرما دیا ہے۔ لہٰذا کسی انسان کے بارے میں اصل فیصلہ اس کے خاندانی تعلق، جماعتی وابستگی یا مسلکی شناخت کی بنیاد پر نہیں، بلکہ اس کے ایمان، تقویٰ، اخلاق اور اعمال کی بنیاد پر ہوگا۔
اگر کوئی شخص قرآن کریم کے بیان کردہ اوصافِ ایمان سے خالی ہے تو محض کسی نسبت یا دعوے سے وہ اللہ تعالیٰ کے یہاں مقبول نہیں ہوسکتا۔
اور اگر کوئی شخص ان صفات سے آراستہ ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک قابلِ قدر ہے اور مقبول ہے ، خواہ اس کا تعلق کسی بھی نسل خاندان ، طبقے یا مکتب فکر سے ہو۔
اسی بنیادی اور فکری حقیقت کی بنا پر اسلام نے ہرمعاملے میں اہلِ ایمان کو عدل و انصاف کا حکم دیا، خواہ وہ انصاف خود ان کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔
:اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَىٰ أَنْفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ (النساء: 135)
اے ایمان والو! انصاف پر مضبوطی سے قائم رہنے والے اور اللہ تعالیٰ کے لیے گواہی دینے والے بنو، اگرچہ وہ گواہی خود تمہارے یا تمہارے والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔
یہ آیت اسلام کے پورے نظامِ عدل کی بنیاد ہے۔ یہاں انسانوں کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ حق کا معیار نہ ذاتی مفاد ہے، نہ رشتہ، نہ برادری،
نہ جماعت، نہ مسلک ، بلکہ صرف اللہ تعالیٰ کا حکم اور انصاف ۔
چنانچہ جو شخص اپنے خاندان، رشتہ داروں ، جماعت یا مسلک کے افراد کی غلطیوں اور مظالم کو صرف وابستگی کی بنیاد پر درست قرار دیتا ہے، وہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کے حکمِ عدل سے انحراف کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے دشمن کے ساتھ بھی انصاف کرنے کا حکم دیا ہے ۔
:ارشاد ہے
وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَىٰ أَلَّا تَعْدِلُوا ۚ اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ
(المائدہ: 8)
کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف کو چھوڑ دو۔ انصاف کرو، یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔
جب اسلام ، دشمنوں کے ساتھ بھی انصاف کا حکم دیتا ہے تو اپنے قبیلہ، برادری ،گروہ، جماعت اور مسلک کے ظلم کو تعصب کی بنیاد پر جائز قرار دینا کس قدر سنگین جرم ہوگا !
یہی وہ مقام ہے جہاں “حزبُ اللہ” اور “حزبُ الشیطان” کے درمیان فرق واضح ہوتا ہے۔
ایک گروہ وہ ہے جو حق کے تابع ہوتا ہے، جبکہ دوسرا وہ، جو خواہشات، مفادات اور تعصبات کا غلام بن جاتا ہے۔
قرآنِ کریم نے اہلِ حق کے اس گروہ کو “حزبُ اللہ” کے نام سے یاد کیا ہے۔
ارشاد ہے: أَلَا إِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (المجادلہ: 22)
خبردار! بے شک اللہ تعالیٰ ہی کا گروہ کامیاب ہونے والا ہے۔
حزبُ اللہ کوئی نسلی، جغرافیائی، خاندانی یا سیاسی جماعت اور مسلک نہیں، بلکہ وہ جماعتِ حق ہے جو ہر حال میں اللہ تعالیٰ کے حکم، عدل، دیانت اور حق پسندی پر قائم رہتی ہے۔ ان کی اصل شناخت یہ ہے کہ وہ حق کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں، خواہ حق ان کے اپنے اور اپنوں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔
اسی لیے نبی کریم ﷺ نے جاہلیت کی اندھی عصبیت کو سختی کے ساتھ رد فرمایا ہے
ارشاد ہے: لَيْسَ مِنَّا مَنْ دَعَا إِلَى عَصَبِيَّةٍ، وَلَيْسَ مِنَّا مَنْ قَاتَلَ عَلَى عَصَبِيَّةٍ، وَلَيْسَ مِنَّا مَنْ مَاتَ عَلَى عَصَبِيَّةٍ (أبو داود)
وہ شخص ہم میں سے نہیں جو عصبیت کی دعوت دے، عصبیت پر لڑے یا عصبیت پر مرے۔
یہ حدیث اعلان کرتی ہے کہ اسلام میں اندھی گروہی وابستگی کی کوئی گنجائش نہیں۔ مومن کی وابستگی صرف حق کے ساتھ ہوتی ہے، نہ کہ ظلم کرنے والی اپنی جماعت کے ساتھ۔
اسی حقیقت کو رسول اللہ ﷺ نے “اپنے بھائی کی مدد” کے مفہوم کے ذریعے مزید واضح فرمادیاـ
:نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا
انْصُرْ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: مظلوم کی مدد تو سمجھ میں آتی ہے، ظالم کی مدد کیسے کریں؟
:آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا
تَحْجُزُهُ أَوْ تَمْنَعُهُ مِنَ الظُّلْمِ، فَإِنَّ ذٰلِكَ نَصْرُهُ (البخاری)
تم اسے ظلم کرنے سے روک دو، یہی اس کی مدد ہے۔
یہی دراصل حزبُ اللہ ( اللہ تعالیٰ کی جماعت) کا مزاج ہے۔ وہ اپنے لوگوں کے ظلم پر پردہ نہیں ڈالتے، نہ تاویلات کے ذریعے ظالم کو بچاتے ہیں، بلکہ ظلم کے خلاف کھڑے ہو جاتے ہیں، چاہے ظالم ان کا اپنا قریبی ہی کیوں نہ ہو۔
بدقسمتی سے برصغیر کی مسلم معاشرے نہ صرف افراط وتفریط کا شکار ہیں بلکہ ان میں اختلاف، انتشار، تعصب اور باہمی نفرت عروج پر ہے ۔
اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ لوگوں نے اپنی اصل ذمہ داری یعنی خود کی اصلاح ، تزکیۂ اخلاق اور دعوتِ حق کو پسِ پشت ڈال کر دوسروں کے ایمان اور انجام کے فیصلے اپنے ہاتھوں میں لے لیا ہے ۔ حالانکہ کسی کے دل کا حال جاننا، اس کے ایمان کی حقیقت کا فیصلہ کرنا اور آخرت میں اس کے مقام کا تعین کرنا صرف اللہ رب العزت کا کام ہے۔ انسان کو صرف ظاہر کا مکلف بنایا گیا ہے، نہ کہ کسی کے باطن میں جھانکنے کا ۔
اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ جو شخص اپنے آپ کو مسلمان کہے، اسلام کا اعتراف و اظہار کرے، شعائرِ اسلام کا احترام کرے اور اس کے کفر کی کوئی واضح، قطعی اور شرعی دلیل موجود نہ ہو تو اسے مسلمان سمجھنا واجب ہے۔
محض اختلافِ رائے، فقہی تنوع، فکری تفاوت یا جماعتی وابستگی کی بنیاد پر کسی کو دائرۂ اسلام سے خارج سمجھنا اور اس کے اقوال اور عبارتوں کو كاٹ چھانٹ کر اس میں سے کفر استنباط کرنا نہایت خطرناک رویہ ہے۔
قرآنِ کریم نے اس بارے میں نہایت سخت تنبیہ فرمائی ہے۔
:اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
لَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَىٰ إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا (النساء: 94)
جو تمہیں سلام کرے اسے یہ نہ کہو کہ تم مومن نہیں ہو۔
یہ آیت اسلامی اخوت، احتیاط اور انسان کے ظاہر کو معتبر ماننے کے اصول کی عظیم بنیاد ہے۔ اگر کوئی شخص سلام کے ذریعے بھی اپنے اسلام کا اظہار کرے تو محض گمان، تعصب یا دنیاوی مفاد کی وجہ سے اسے غیر مومن قرار دینا جائز نہیں۔
اسی حقیقت کو نبی کریم ﷺ نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنھما کے مشہور واقعے میں نہایت شدت کے ساتھ واضح فرمایا۔
جنگ کے دوران ایک شخص نے تلوار کی زد میں آنے کے بعد “لا إله إلا الله” کہا، لیکن حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے یہ سمجھ کر اسے قتل کردیا کہ اس نے جان بچانے کے لیے کلمہ پڑھا ہے۔ جب یہ معاملہ نبی کریم ﷺ کے سامنے آیا تو آپ ﷺ بار بار فرماتے رہے
أَقَتَلْتَهُ بَعْدَمَا قَالَ: لا إِلهَ إِلَّا اللَّهُ؟
کیا تم نے اسے “لا إله إلا الله” کہنے کے بعد بھی قتل کر دیا؟
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے کہا : إنما قالها خوفا من السلاح۔
یا رسول اللہ اس نے موت کے ڈر سے “لا إله إلا الله” کہا تھا
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت غصے میں ارشاد فرمایا
أَفَلا شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِهِ حَتَّى تَعْلَمَ أَقَالَهَا أَمْ لا؟
کیا تم نے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا کہ تمہیں معلوم ہوجاتا کہ اس نے یہ کلمہ دل سے کہا تھا یا نہیں؟
كَيْفَ تَصْنَعُ بِلا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ إِذَا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ (مسلم)
اے اسامہ قیامت کے دن جب “لا إله إلا الله” تمہارے سامنے آئے گا تو تم کیا کرو گے؟
یہ جملہ صرف حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کے لیے تنبیہ نہ تھا بلکہ پوری امت کے لیے ایک عظیم اصول تھا کہ کسی کے باطن کا فیصلہ انسان کے اختیار میں نہیں۔
انسان ظاہر پر حکم لگاتا ہے، جبکہ دلوں کے راز اللہ تعالیٰ جانتے ہیں۔
آج امت کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ حق و باطل کا معیار قرآن و سنت کے بجائے گروہی مفادات بن چکے ہیں۔ اگر ظالم اپنے مسلک، جماعت، خاندان یا پارٹی سے تعلق رکھتا ہو تو اس کے ظلم کو “حکمت، مصلحت، اجتہاد یا وفاداری” کا نام دیا جاتا ہے، لیکن اگر یہی عمل مخالف گروہ کی طرف سے ہو تو اسے ظلم، بربریت اور فساد کہا جاتا ہے۔ یہ دوہرا معیار دراصل انصاف کے قتل اور ایمان کی کمزوری کی علامت ہے۔
اسی گروہی تعصب کے نتیجے میں: جھوٹی گواہیاں دی جاتی ہیں، حق کو چھپایا جاتا ہے،
مظلوم کو تنہا چھوڑ دیا جاتا ہے، ظالم کی حمایت کی جاتی ہے، جرائم کی تاویل کی جاتی ہے ۔
اس سے معاشروں میں نفرت اور انتشار پھیلتا ہے،اور امت اخلاقی تباہی کی طرف بڑھنے لگتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جب عصبیت انصاف پر غالب آ جائے تو قومیں تباہ ہو جایا کرتی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن معاشروں میں حق کے بجائے گروہی مفادات کو ترجیح دی گئی، وہاں ظلم اجتماعی مزاج بن گیا اور پھر وہ قومیں اللہ تعالیٰ کے عذاب اور زوال کا شکار ہوئیں۔
اہلِ حق کی سب سے بڑی علامت یہی ہے کہ وہ حق کو شخصیتوں، جماعتوں اور مفادات پر قربان نہیں کرتے۔
وہ قرآنِ کریم اور سنتِ نبوی ﷺ کو معیار بناتے ہیں، نہ کہ تعصبات کو۔
وہ مظلوم کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں، چاہے وہ کسی بھی برادری، جماعت یا مسلک سے تعلق رکھتا ہو، اور ظالم کی مخالفت کرتے ہیں، چاہے وہ ان کا اپنا عزیز ہی کیوں نہ ہو۔
قرآنِ کریم نے ایسے ہی لوگوں کو کامیابی کی بشارت دی ہے
:ارشاد ہے
فَإِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْغَالِبُونَ (المائدہ: 56)
بے شک اللہ تعالیٰ ہی کا گروہ غالب آنے والا ہے۔
یہ غلبہ صرف سیاسی یا عسکری غلبہ نہیں بلکہ فکری، اخلاقی اور روحانی غلبہ بھی ہے۔ کیونکہ حق آخرکار غالب ہوکر رہتا ہے، جبکہ تعصب، ظلم اور باطل وقتی شور تو پیدا کر سکتے ہیں مگر دائمی کامیابی حاصل نہیں کر سکتے۔
آج سب سے زیادہ ضرورت اسی قرآنی اور نبوی مزاج کی ہے کہ ہر شخص گروہی تعصب،
شخصیت پرستی، مسلکی اندھی وابستگی اور سیاسی جانبداری سے اوپر اٹھ کر “حزبُ اللہ ( اللہ والوں) ” کا حصہ بنے ایسا گروہ جو صرف اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت، عدل، حق گوئی، دیانت، اخوت اور تقویٰ کو اپنا شعار بنائے۔
کیونکہ نجات کسی مخصوص نسل ، خاندان ، برادری، جماعت کے نام میں نہیں، بلکہ حق کے ساتھ وابستگی میں ہے۔ حقیقی مومن وہی ہے جو حق کو پہچان کر اس کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دے، خواہ اس کی اپنی خواہشات، تعلقات یا مفادات اس کے خلاف ہی کیوں نہ ہوں۔ یہی عدل ہے، یہی تقویٰ ہے، یہی ایمان کا تقاضا ہے، اور یہی اللہ والوں کی حقیقی پہچان ہے ۔
مگر ہم مسلکی و جماعتی عصبیت کا اس قدر شکار ہیں کہ کئی مرتبہ ہم جن باتوں کی بنیاد پر دوسروں کو گمراہ سمجھتے ہیں من وعن وہی باتیں ہمارے محترمین کی بھی ہوتی ہے مگر ہم وہاں پر تاویل کرتے نظر آتے ہیں ۔ کیا یہ دوہرا رویہ نہیں ہے ؟ کیا یہ انصاف دشمنی نہیں ہے؟
اس لئے ہمیں اپنی ہر فکر ، رویہ اور عمل کو قرآن و سنت کی کسوٹی پر پرکھنے کی ضرورت ہے ۔
نہ کہ اپنوں کی تاویل اور غیروں کی تنقیص ۔
اسلام اس کی ہرگز اجازت نہیں دیتا ۔
اگر غلطی کوئی اپنا کرے تو بھی غلط ہے ، وہ کار خیر نہیں ہو سکتا اور اچھائی غیر کرے تو وہ بھی اچھائی ہے ۔
محض غیریت کی وجہ سے اس کی نیکی برائی نہیں شمار ہوگی ۔
حاصل یہ ہے کہ “حزب اللہ ( اللہ والے) ” کسی مخصوص نسل، خاندان، جماعت یا مسلک کا نام نہیں، بلکہ اہلِ ایمان کا وہ گروہ ہے جو ہر حال میں حق، عدل، دیانت، تقویٰ اور رضائے الٰہی کو اپنا شعار بناتا ہے ۔
اسی بنا پر اسلام کسی مسلمان کو محض فقہی اختلاف، فکری تنوع یا جماعتی وابستگی کی بنیاد پر دائرۂ اسلام سے خارج قرار دینے کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا، کیونکہ انسان ظاہر کا مکلف ہے جبکہ دلوں کے بھید اور نیتوں کی حقیقت صرف اللہ تعالیٰ جانتے ہیں۔
موجودہ دور میں امتِ مسلمہ کے انتشار، باہمی نفرت اور فکری و مسلکی کشمکش کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ حق و باطل کا معیار قرآن و سنت کے بجائے شخصیات، جماعتوں اور گروہی وابستگیوں کو بنا لیا گیا ہے۔ نتیجتاً ایک ہی عمل اپنے گروہ کے کسی فرد سے صادر ہو تو اس کی تاویل کی جاتی ہے، جبکہ وہی مخالف سے سرزد ہونے پر اسے جرم قرار دیا جاتا ہے۔ یہ دوہرا معیار نہ صرف انصاف کے اصولوں کے منافی ہے بلکہ امت کی اخلاقی اور فکری کمزوری کا بھی مظہر ہے۔
اسی لئے ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنی مسلکی، جماعتی اور شخصی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر قرآن کریم اور سنن مبارکہ کو حق کا واحد معیار بنائے، حق بات کو قبول کرنے اور ظلم کی مخالفت کرنے کا حوصلہ پیدا کرے، اور ہر حال میں عدل و انصاف کو قائم رکھنے کی کوشش کرے۔ یہی حقیقی تقویٰ، کامل ایمان، دائمی کامیابی اور اللہ تعالیٰ کے مقبول بندوں کی نمایاں پہچان ہے



