انسانی معاشرہ تعلقات، محبت، خیر خواہی اور باہمی اعتماد پر قائم ہوتا ہے۔ مگر جہاں انسان ہوں گے وہاں اختلاف، کوتاہیاں، غلط فہمیاں اور بعض اوقات آزار و اذیت بھی پیش آئے گی۔ اگر ہر غلطی کا جواب انتقام سے دیا جائے، ہر لغزش پر بدلہ لیا جائے اور ہر تلخی کو دل میں محفوظ رکھا جائے تو خاندان، معاشرہ اور امت کا شیرازہ بکھر جائے گا۔ اسی لیے اسلام نے عدل کے ساتھ ساتھ عفو و درگزر کو بھی اعلیٰ ترین اخلاقی اقدار میں شمار کیا ہے۔
معاف کرنا کمزور انسان کے بس کی بات نہیں، بلکہ یہ صاحبِ ایمان کی طاقت، صاحبِ تقویٰ کی شناخت اور صاحبِ اخلاق کی زینت ہے۔ جو شخص بدلہ لینے کی قدرت رکھنے کے باوجود صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر معاف کر دیتا ہے، وہ درحقیقت اپنے نفس پر غالب آجاتا ہے۔ یہی وہ شخص ہے جسے اللہ تعالیٰ محسن قرار دیتے ہیں اور اپنی محبت کی بشارت عطا فرماتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ کی پوری سیرتِ طیبہ اس حقیقت کی روشن ترین مثال ہے کہ دلوں کو صرف طاقت سے نہیں بلکہ عفو، احسان اور حسنِ اخلاق سے فتح کیا جاتا ہے۔
عفو کے معنی ہیں: کسی کی خطا معاف کر دینا، باوجود اس کے کہ انسان کو انتقام لینے یا سزا دینے کی قدرت حاصل ہو۔ جبکہ صفح و درگزر کا درجہ اس سے بھی بلند ہے ، یعنی معاف کرنے کے بعد ملامت نہ کرنا، دل میں کینہ نہ رکھنا اور گزشتہ غلطی کو دوبارہ نہ چھیڑنا۔ اسلام صرف زبان سے معافی مانگنے یا معاف کرنے کا حکم نہیں دیتا، بلکہ دل کو بغض، حسد اور انتقام کی آگ سے پاک کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ یہی حقیقی عفو و درگزر ہے۔
:اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ ۗ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ (آل عمران: 134)
“( میرے متقی بندے وہ ہیں ) جو غصہ کو پی جاتے ہیں، لوگوں کو معاف کر دیتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں سے محبت فرماتے ہیں ۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے متقی بندوں کے تین عظیم اوصاف بیان فرمائے: غصے کو ضبط کرنا، لوگوں کو معاف کرنا اور معاف کرنے کے بعد احسان کرنا۔ گویا اسلامی تعلیم صرف غصہ روکنے تک محدود نہیں، بلکہ انسان کو معافی سے آگے بڑھ کر احسان کی منزل تک پہنچاتی ہے۔
:ایک دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا
فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ (الشوریٰ: 40)
پھر جو شخص معاف کر دے اور اصلاح کرے تو اس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔
یہ کتنی عظیم بشارت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے معافی کے اجر کی مقدار متعین نہیں فرمائی، بلکہ اسے اپنے ذمہ لیا۔ جس اجر کی ذمہ داری خود ربِ کریم لیں، اس کی عظمت کا اندازہ انسان نہیں لگا سکتا۔
:مزید فرمایا
وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا ۗ أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ (النور: 22)
انہیں چاہیے کہ معاف کر دیں اور درگزر کریں۔ کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں بھی بخش دیں؟
یہ آیت معافی کی پوری اسلامی فکر کا خلاصہ ہے۔ بندہ جب دوسروں کی خطاؤں سے درگزر کرتا ہے تو اسے اپنے رب کی مغفرت کی امید بھی رکھنی چاہیے۔
یہ آیت واقعۂ افک کے بعد نازل ہوئی۔ حضرت مسطح بن اُثاثہ رضی اللہ عنہ ایک غریب صحابی تھے اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان کے اخراجات برداشت کیا کرتے تھے۔ واقعۂ افک میں مسطح رضی اللہ عنہ بھی ان لوگوں میں شامل ہوگئے تھے جنہوں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں پھیلائی جانے والی افواہ کو آگے بڑھایا تھا۔ جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اس کا علم ہوا تو انہیں شدید صدمہ پہنچا اور انہوں نے قسم کھالی کہ آئندہ مسطح رضی اللہ عنہ کی مالی مدد نہیں کریں گے۔
:اسی موقع پر یہ آیت نازل ہوئی
أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ
کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں بخش دیں؟
یہ الفاظ سنتے ہی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا
کیوں نہیں! اللہ کی قسم! میں چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بخش دیں۔
چنانچہ انہوں نے اپنی قسم کا کفارہ ادا کیا، حضرت مسطح رضی اللہ عنہ کو معاف کر دیا اور ان کی مالی مدد دوبارہ شروع کردی۔
(بخاری، مسلم)
یہ واقعہ قیامت تک آنے والے مسلمانوں کو یہ سبق دیتا ہے کہ حقیقی ایمان انسان کو ذاتی رنج و انتقام سے اوپر اٹھا کر عفو و احسان کی طرف لے جاتا ہے۔
اگر پوری انسانی تاریخ میں کسی شخصیت نے معافی اور درگزر کا سب سے بلند معیار قائم کیا ہے تو وہ سید الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے اخلاق کے بارے میں فرمایا
وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ (القلم: 4)
“اور بے شک آپ عظیم اخلاق پر فائز ہیں۔”
آپ ﷺ کا عفو و درگزر صرف دوستوں تک محدود نہ تھا، بلکہ دشمنوں کے ساتھ بھی آپ ﷺ نے ایسا اعلیٰ اخلاقی نمونہ پیش فرمایا جس کی مثال تاریخ پیش کرنے سے قاصر ہے۔
فتح مکہ پوری انسانی تاریخ کا ایک بے مثال واقعہ ہے۔ آٹھ سال پہلے اہلِ مکہ نے رسول اللہ ﷺ کو طرح طرح کی اذیتیں دی تھیں، آپ ﷺ کا مذاق اڑایا، آپ کو گالیاں دیں، آپ ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر ظلم و ستم کیا، بعض صحابہ کو شہید کیا، معاشی و سماجی بائیکاٹ کیا اور بالآخر آپ ﷺ کو اپنا محبوب وطن چھوڑنے پر مجبور کردیا۔
اب وہی لوگ شکست خوردہ ہوکر آپ ﷺ کے سامنے کھڑے تھے۔ انسانی تاریخ میں فاتحین نے ایسے مواقع پر اکثر انتقام لیا ہے، لیکن رحمۃ للعالمین ﷺ نے عفو و درگزر کا ایسا مظاہرہ فرمایا کہ دشمن بھی آپ ﷺ کے اخلاق کے سامنے جھک گئے۔
:آپ ﷺ نے اہلِ مکہ سے فرمایا
يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ، مَا تَرَوْنَ أَنِّي فَاعِلٌ بِكُمْ؟
“اے قریش! تمہارا کیا خیال ہے، میں آج تمہارے ساتھ کیا سلوک کروں گا؟”
انہوں نے عرض کیا:
خَيْرًا، أَخٌ كَرِيمٌ وَابْنُ أَخٍ كَرِيمٍ
“آپ سے بہتر کی امید ہے کیونکہ آپ شریف بھائی اور شریف بھائی کے بیٹے ہیں۔”
تب آپ ﷺ نے حضرت یوسف علیہ السلام کے الفاظ دہراتے ہوئے فرمایا
لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ
“آج تم پر کوئی ملامت نہیں۔” اور فرمایا
اذْهَبُوا فَأَنْتُمُ الطُّلَقَاءُ
“جاؤ، آج تم سب آزاد ہو۔”
(دلائل النبوۃ للبیہقی، طبری)
یہ وہ لوگ تھے جو برسوں تک آپ ﷺ کے بدترین دشمن رہے، مگر فتح و اقتدار کے موقع پر آپ ﷺ نے ذاتی انتقام کے بجائے عام معافی کا راستہ اختیار فرمایا۔
سنہ 10 نبوی میں رسول اللہ ﷺ طائف تشریف لے گئے تاکہ اہلِ طائف کو اسلام کی دعوت دیں۔ مگر وہاں کے سرداروں نے نہ صرف دعوت کو ٹھکرایا بلکہ شہر کے آوارہ لڑکوں کو آپ ﷺ کے پیچھے لگا دیا۔ انہوں نے آپ ﷺ پر پتھر برسائے، یہاں تک کہ مبارک قدم خون سے تربتر ہوگئے اور آپ ﷺ ایک باغ میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔
اسی موقع پر اللہ تعالیٰ کے فرشتے حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اگر آپ حکم دیں تو دونوں پہاڑوں کو ملا کر ان لوگوں کو ہلاک کردیا جائے۔
:لیکن رحمۃ للعالمین ﷺ نے فرمایا
بَلْ أَرْجُو أَنْ يُخْرِجَ اللَّهُ مِنْ أَصْلَابِهِمْ مَنْ يَعْبُدُ اللَّهَ وَحْدَهُ، لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا (بخاری، مسلم)
نہیں، بلکہ مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی نسلوں میں ایسے لوگ پیدا فرمائیں گے جو صرف ایک اللہ کی عبادت کریں گے اور ان کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے۔
یہ صرف معافی نہیں بلکہ ان لوگوں کے لیے بھی ہدایت کی امید اور دعا تھی جنہوں نے آپ ﷺ کو شدید تکلیف پہنچائی تھی۔ بعد کے واقعات نے ثابت کیا کہ آپ ﷺ کی یہ امید درست تھی۔
غزوۂ اُحد میں مشرکین نے رسول اللہ ﷺ کو شدید زخمی کردیا۔ آپ ﷺ کا مبارک چہرہ لہولہان ہوگیا اور دندانِ مبارک شہید ہوئے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ آپ ﷺ ان کے لیے بددعا فرمائیں۔
:آپ ﷺ نے فرمایا
إِنِّي لَمْ أُبْعَثْ لَعَّانًا، وَإِنَّمَا بُعِثْتُ رَحْمَةً میں لعنت کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا گیا، بلکہ رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں۔
:پھر دعا فرمائی
اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ(مسلم)
اے اللہ! آپ میری قوم کو بخش دیں، کیونکہ یہ نہیں جانتے ۔
جس شخص کو دشمنوں نے جسمانی طور پر زخمی کیا، اس کے دل میں بھی ان کے لیے ہدایت اور مغفرت کی خواہش تھی۔ یہی اخلاقِ نبوی ﷺ کا کمال تھا۔
ایک اعرابی نے رسول اللہ ﷺ کی چادر کو اس زور سے کھینچا کہ اس کا نشان مبارک گردن پر پڑ گیا۔ پھر اس نے کہا
يَا مُحَمَّدُ، مُرْ لِي مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِي عِنْدَكَ۔
اے محمد! اللہ تعالیٰ کے مال میں سے مجھے بھی کچھ دینے کا حکم دے دو۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس کی گستاخی ناگوار گزری، لیکن نبی کریم ﷺ ناراض نہ ہوئے،
فَضَحِكَ، ثُمَّ أَمَرَ لَهُ بِعَطَاءٍ.
بلکہ آپ ﷺ مسکرا دیے اور اسے عطیہ دینے کا حکم فرمایا۔ (بخاری، مسلم)
یہ حلم، بردباری اور عفو و درگزر کا ایسا منظر ہے جس سے دنیا کے بڑے بڑے حکمراں بھی اخلاقی عظمت کا سبق حاصل کرسکتے ہیں۔
ثمامہ بن اُثال رضی اللہ عنہ ابتداء میں اسلام کے سخت دشمن تھے۔ مسلمانوں نے انہیں گرفتار کرکے مسجد نبوی میں باندھ دیا۔ نبی کریم ﷺ روز ان کے پاس تشریف لاتے اور نرمی سے گفتگو فرماتے۔ تین دن بعد آپ ﷺ نے انہیں بغیر کسی فدیے کے آزاد کردیا۔
وہ مدینہ سے باہر چلے گئے، غسل کیا، واپس آئے اور اسلام قبول کرتے ہوئے کہا
أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدًا رسول الله
:پھر عرض کیا
يَا مُحَمَّدُ وَاللَّهِ مَا كَانَ عَلَى الْأَرْضِ وَجْهٌ أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْ وَجْهِكَ، فَقَدْ أَصْبَحَ وَجْهُكَ أَحَبَّ الْوُجُوهِ إِلَيَّ (بخاری)
اے محمد! اللہ کی قسم! پہلے روئے زمین پر آپ کا چہرہ مجھے سب سے زیادہ ناپسند تھا، لیکن اب آپ کا چہرہ مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے۔
یہ نبی کریم ﷺ کے عفو، حلم اور حسنِ سلوک کی وہ قوت تھی جس نے ایک سخت ترین دشمن کے دل کو بدل دیا۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں
وَمَا انْتَقَمَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ لِنَفْسِهِ، إِلَّا أَنْ تُنْتَهَكَ حُرْمَةُ اللَّهِ فَيَنْتَقِمَ لِلَّهِ بِهَا(بخاری)
نبی کریم ﷺ نے کبھی اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا، البتہ جب اللہ تعالیٰ کی حرمت پامال ہوتی تو اللہ تعالیٰ کے لیے اقدام فرماتے۔
یہ حدیث اسلامی تعلیم کا ایک بنیادی اصول بیان کرتی ہے کہ ذاتی معاملات میں عفو و درگزر اختیار کیا جائے، جبکہ اللہ تعالیٰ کے احکام، حقوقِ عامہ اور عدل و انصاف کے تقاضوں میں کوتاہی نہ کی جائے۔
قرآن کریم میں معافی کا ایک نہایت دل نشین واقعہ حضرت یوسف علیہ السلام کا ہے۔ آپ کے بھائیوں نے حسد کی بنا پر آپ کو کنویں میں ڈال دیا، والد سے جدا کردیا، غلام بنا کر فروخت کیا اور برسوں کی جدائی کا سبب بنے۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو مصر کا اقتدار عطا فرمایا اور وہی بھائی محتاج ہوکر آپ کے سامنے آئے تو آپ کے پاس انتقام لینے کی پوری قدرت تھی۔
مگر اللہ تعالیٰ کے محبوبوں کا دل انتقام سے خالی اور رحمت سے لبریز ہوتا ہے ۔
آپ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا
لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ ۖ يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ
(یوسف: 92)
آج تم پر کوئی ملامت نہیں۔ اللہ تعالیٰ تمہیں بخش دیں، اور وہ سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والے ہیں۔
غور کیجیے! صرف معاف ہی نہیں کیا، بلکہ ان کے لیے مغفرت کی دعا بھی کی اور ماضی کے زخموں کو دوبارہ نہیں چھیڑا۔ یہی حقیقی عفو و صفح ہے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منسوب ایک واقعہ بہت مشہور ہے کہ جنگ کے دوران آپ نے اپنے مخالف کو زمین پر گرا لیا۔ اس شخص نے بے بسی میں آپ کے چہرے پر تھوک دیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فوراً پیچھے ہٹ گئے۔ جب اس نے وجہ پوچھی تو فرمایا
اس سے پہلے میں اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے لڑ رہا تھا، لیکن اب اگر میں تمہیں قتل کرتا تو اس میں میرے ذاتی غصے کا دخل ہوجاتا، اس لیے میں نے تمہیں چھوڑ دیا۔
اس قصے کی کوئی معتبر سند مجھے نہیں مل سکی۔واللہ تعالیٰ اعلم
فتنۂ خلقِ قرآن کے زمانے میں امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کو قید کیا گیا، کوڑے مارے گئے اور شدید اذیتیں دی گئیں۔ جب آزمائش ختم ہوئی تو لوگوں نے عرض کیا کہ آپ اپنے ظلم کرنے والوں کے خلاف بددعا کریں۔
امام احمد رحمہ اللہ نے فرمایا
كُلُّ مَنْ ذَكَرَنِي فَهُوَ فِي حِلٍّ إِلَّا مُبْتَدِعًا، وَقَدْ جَعَلْتُ أَبَا إِسْحَاقَ – يَعْنِي الْمُعْتَصِمَ – فِي حِلٍّ، وَرَأَيْتُ اللَّهَ يَقُولُ: وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ، وَأَمَرَ النَّبِيُّ ﷺ أَبَا بَكْرٍ بِالْعَفْوِ فِي قِصَّةِ مِسْطَحٍ۔ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: وَمَا يَنْفَعُكَ أَنْ يُعَذِّبَ اللَّهُ أَخَاكَ الْمُسْلِمَ فِي سَبَبِكَ؟
جس جس شخص نے میرے بارے میں کچھ کہا یا میرے ساتھ زیادتی کی، میں نے اسے معاف کردیا، اور ابو اسحاق یعنی معتـصم کو بھی میں نے معاف کردیا۔ میں نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان پڑھا: انہیں چاہیے کہ معاف کردیں اور درگزر کریں، کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں بخش دیں؟’ اور نبی کریم ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو واقعۂ مسطح میں معاف کرنے کی تعلیم دی تھی۔
اے احمد! تمہیں اس بات سے کیا فائدہ کہ اللہ تعالیٰ تمہاری وجہ سے تمہارے مسلمان بھائیوں کو عذاب دیں؟
(سیر أعلام النبلاء للذہبی)
یہ واقعہ اس بات کی مثال ہے کہ سلف صالحین سخت ترین ذاتی اذیتوں کو اللہ تعالیٰ کی رضا اور آخرت کی مغفرت کے مقابلے میں معمولی سمجھتے تھے۔
: رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا
مَا زَادَ اللَّهُ عَبْدًا بِعَفْوٍ إِلَّا عِزًّا
(بخاری)
اللہ تعالیٰ معاف کرنے کی وجہ سے اپنے بندے کی عزت ہی میں اضافہ فرما دیتے ہیں۔
یہ حدیث اس غلط فہمی کو دور کرتی ہے کہ معاف کرنے سے انسان کی وقعت اور عزت کم ہوجاتی ہے۔ حقیقت اس کے برعکس ہے، حقیقی عزت اس شخص کے لیے ہے جو اپنے نفس پر قابو رکھتے ہوئے معافی کا راستہ اختیار کرے۔
:آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا
لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ، إِنَّمَا الشَّدِيدُ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ(بخاری)
طاقتور وہ نہیں جو کشتی میں دوسرے کو زیر کر دے، بلکہ طاقتور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے۔
اسی طرح فرمایا
ارْحَمُوا مَنْ فِي الْأَرْضِ يَرْحَمْكُمْ مَنْ فِي السَّمَاءِ
(ترمذی)
تم زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم فرمائے گا۔
:اور فرمایا
مَنْ يُحْرَمِ الرِّفْقَ، يُحْرَمِ الْخَيْرَ كُلَّهُ(مسلم)
جو نرمی سے محروم کردیا گیا، وہ ہر خیر سے محروم کردیا گیا۔
اسلام نے معافی کی ترغیب ضرور دی ہے، لیکن ظلم کو برداشت کرنے یا ظالم کو کھلی چھوٹ دینے کا حکم نہیں دیا۔
اسلام اعتدال کا دین ہے ،اس نے نہ ہر حال میں انتقام کا حکم دیا ہے اور نہ ہر حال میں معاف کرنے کا۔
:اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا ۖ فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ
برے سلوک کا بدلہ ویسا ہی سلوک ہے، لیکن جو معاف کردے اور اصلاح کرے تو اس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔
(الشوریٰ: 40)
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ مظلوم کو انصاف حاصل کرنے کا حق ہے اور ظلم کو روکنا بھی ضروری ہے، لیکن جہاں معافی سے اصلاح کی امید ہو وہاں عفو و درگزر افضل ہے۔
اگر کسی ظالم کو معاف کرنے سے اصلاح کے بجائے فساد کا اندیشہ ہو، وہ ظلم پر مزید دلیر ہوجائے، دوسروں کے حقوق پامال ہوں یا معاشرے میں فتنہ پھیلے تو وہاں عدل و انصاف کے تقاضے مقدم ہوں گے۔ اسلام ذاتی معاملات میں عفو کی ترغیب دیتا ہے، مگر اجتماعی حقوق، امنِ عامہ اور مظلوموں کے تحفظ کے معاملے میں عدل کو قائم رکھتا ہے۔
معاف کرنے کا مطلب ظلم کو اچھا قرار دینا نہیں، نہ مجرم کے جرم کو جائز سمجھنا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے ذاتی حق کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے چھوڑ دے، دل کو کینہ سے پاک رکھے اور جہاں ممکن ہو اصلاح کا راستہ اختیار کرے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی ذات کے لیے کبھی انتقام نہیں لیا، لیکن جب اللہ تعالیٰ کی حدود پامال ہوتیں یا کسی مظلوم کا حق دبایا جاتا تو عدل قائم فرماتے۔
دنیا کا کوئی گھر ایسا نہیں جہاں کبھی اختلاف نہ ہوتا ہو۔ میاں بیوی، والدین اور اولاد، بھائی بہن اور رشتہ داروں سے کبھی نہ کبھی غلطی سرزد ہوتی ہے۔ اگر ہر غلطی کا جواب سختی اور ہر لغزش کا جواب انتقام ہو تو گھر محبت کا گہوارہ نہیں رہ سکتا۔ جس گھر میں معاف کرنے کی عادت ہو، وہاں محبت بڑھتی ہے، دل قریب آتے ہیں اور شیطان کو اختلاف پیدا کرنے کا موقع کم ملتا ہے۔
آج ہمارے معاشرے میں نفرت، انتقام، خاندانی جھگڑے، عدالتوں میں برسوں چلنے والے مقدمات، سوشل میڈیا پر کردار کشی اور معمولی باتوں پر تعلقات ختم کردینا عام ہوتا جارہا ہے۔ اگر مسلمان قرآن و سنت کی تعلیمات کو اپنی زندگی میں نافذ کرلیں تو بے شمار دشمنیاں ختم ہوسکتی ہیں، خاندان دوبارہ جڑ سکتے ہیں اور معاشرہ امن و محبت کا گہوارہ بن سکتا ہے۔
معافی اس لیے مشکل محسوس ہوتی ہے کہ انسان کا نفس بدلہ چاہتا ہے، جبکہ ایمان اسے اللہ تعالیٰ کی رضا کی طرف بلاتا ہے۔
:نفس کہتا ہے
“اس نے تمہیں رلایا ہے، اسے بھی رلاؤ۔”
:ایمان کہتا ہے
اگر تم چاہتے ہو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں معاف فرمائیں تو تم بھی لوگوں کو معاف کرو۔
:نفس کہتا ہے
“بدلہ لو، ورنہ لوگ تمہیں کمزور سمجھیں گے۔”
:نبی رحمت ﷺ کی تعلیم ہے
“رحم کرو، اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائیں گے۔”
یہی ایمان اور نفس کی کشمکش ہے۔ جو شخص اس کشمکش میں اللہ تعالیٰ کی رضا کو ترجیح دیتا ہے، وہی حقیقی کامیاب ہے۔
اسلام نے معافی کو محض ایک اخلاقی نصیحت کے طور پر پیش نہیں کیا، بلکہ انبیائے کرام علیہم السلام، رسول اللہ ﷺ، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اور سلف صالحین رحمہم اللہ کی عملی زندگی میں اس کی روشن مثالیں پیش کیں۔ رسول اللہ ﷺ کی پوری حیاتِ طیبہ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ معافی دشمن کو بھی دوست بنا سکتی ہے اور حسنِ اخلاق وہ طاقت ہے جس سے وہ کام ہوجاتا ہے جو تلواریں بھی نہیں کرسکتیں۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو قوتِ انتقام بھی عطا کی ہے اور قوتِ عفو بھی۔ بعض مواقع پر بدلہ لینا جائز ہے، لیکن جب انسان بدلہ لینے کی پوری قدرت رکھتے ہوئے صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے معاف کردے تو یہ اس کے ایمان اور اخلاق کی بلندی کی علامت ہے۔ معاف کرنا کمزور کی مجبوری نہیں، بلکہ طاقتور کا حسن ہے۔
آج دنیا کو طاقتور ہتھیاروں سے زیادہ طاقتور دلوں کی ضرورت ہے ،ایسے دل جو معاف کرنا جانتے ہوں، ایسے انسان جو نفرت کے جواب میں محبت، برائی کے جواب میں بھلائی اور انتقام کے بجائے عفو و درگزر کا راستہ اختیار کریں۔
اگر ہم اپنے گھروں، رشتہ داروں، دوستوں، پڑوسیوں اور پورے معاشرے میں نبی رحمت ﷺ کی سنتِ عفو کو زندہ کرلیں تو بے شمار ٹوٹے ہوئے رشتے جڑ سکتے ہیں، نفرتیں محبت میں بدل سکتی ہیں اور امتِ مسلمہ دوبارہ اخوت، رحمت اور باہمی اعتماد کا نمونہ بن سکتی ہے۔
آئیے! ہم عہد کریں کہ جب بھی ہمیں بدلہ لینے کا موقع ملے گا، ہم پہلے اپنے دل سے یہ سوال کریں گے
کیا میں نہیں چاہتا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مجھے معاف فرمائیں؟
اگر اس سوال کا جواب “ہاں” ہے تو ہمیں بھی لوگوں کو معاف کرنا سیکھنا ہوگا، کیونکہ جو بندوں پر رحم کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرماتے ہیں، اور جو لوگوں کی خطاؤں سے درگزر کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی خطاؤں سے درگزر فرماتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق عفو و درگزر کی توفیق عطا فرمائیں، ہمارے دلوں کو کینہ، بغض اور جذبہ انتقام سے پاک فرمائیں، ہمیں اپنے نفس پر قابو پانے کی توفیق دیں اور ان خوش نصیب بندوں میں شامل فرمائیں جن کے بارے میں ارشاد ہے:
وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ ۗ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ (آل عمران: 134)
وہ غصہ کو پی جانے والے اور لوگوں کو معاف کرنے والے ہیں، اور اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں سے محبت فرماتے ہیں ۔
آمین یا رب العالمین۔


