انسانی معاشرہ صرف قوانین، ضابطوں اور معاہدوں سے نہیں چلتا، بلکہ اس کی اصل بنیاد سچائی، اعتماد، وعدے ، عھد اور باہمی ذمہ داری پر قائم ہوتی ہے۔ ایک انسان دوسرے انسان پر اسی وقت اعتماد کرتا ہے جب اسے یقین ہو کہ اس کی زبان سے نکلا ہوا وعدہ محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے، جسے وہ پورا کرنے کی کوشش کرے گا۔ گھر کے معاملات ہوں یا کاروبار کے، دوستی ہو یا رشتہ داری، تعلیم ہو یا ملازمت، تجارت ہو یا سیاست، انفرادی زندگی ہو یا اجتماعی نظام ، ہر جگہ انسان اپنے قول و قرار کے ذریعے دوسروں سے وابستہ ہوتا ہے۔
اسی لیے اسلام نے وعدہ پورا کرنے کو محض ایک معاشرتی خوبی نہیں بلکہ ایمان و اخلاق کا اہم تقاضا قرار دیا ہے، اور بدعہدی اور وعدہ خلافی کو نہایت سنگین اخلاقی برائی قرار دیا ہے۔
:اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ (المائدۃ: 1)
“اے ایمان والو! عہد و پیمان پورے کرو۔”
یہ مختصر مگر جامع حکم اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام میں وعدہ اور معاہدہ معمولی چیز نہیں۔ جس شخص نے کسی سے کوئی جائز عہد کیا ہے، اس پر اسے پورا کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
وعدہ اس قول و قرار کو کہتے ہیں جس کے ذریعے انسان آئندہ کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کی ذمہ داری قبول کرتا ہے۔ جب کوئی شخص زبان سے کہتا ہے کہ “میں یہ کام ضرور کروں گا”، “میں تمہارا حق فلاں وقت ادا کردوں گا”، “میں تمہاری امانت واپس کردوں گا”، میں فلاں ذمہ داری پوری کروں گا”، تو وہ محض ایک جملہ نہیں بول رہا ہوتا، بلکہ اپنی زبان کے ذریعے اپنے اوپر ایک اخلاقی ذمہ داری عائد کر رہا ہوتا ہے۔
وعدے کے مفہوم کو ادا کرنے کے لیے عربی زبان میں متعدد الفاظ استعمال ہوتے ہیں، جن میں عہد، میثاق اور عقود قابلِ ذکر ہیں۔ اگرچہ یہ الفاظ اپنے بنیادی مفہوم کے اعتبار سے باہم قریب اور تقریباً ہم معنی ہیں، تاہم ہر لفظ اپنے اندر معنی کی ایک مخصوص وسعت اور شدت رکھتا ہے۔ عہد محض وعدے
تک محدود نہیں بلکہ اس سے زیادہ وسیع مفہوم رکھتا ہے؛ جبکہ میثاق ایسے مضبوط، پختہ اور مؤکد عہد کو کہتے ہیں جسے مزید استحکام کے ساتھ باندھا گیا ہو۔ اسی طرح عقود ، جس میں باہمی التزام، پابندی اور کسی معاملے کو باقاعدہ طور پر لازم کر لینے کا مفہوم پایا جاتا ہے۔
قرآنِ کریم نے انسانی زندگی میں عہد و پیمان کی پاسداری اور وعدوں کی تکمیل کو غیر معمولی اہمیت عطا فرمائی ہے۔ مختلف مقامات پر عہد، میثاق اور عقود کو پورا کرنے کی صریح تاکید کی گئی ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وعدہ محض زبان سے ادا کیے جانے والے چند الفاظ کا نام نہیں، بلکہ ایک ایسی ذمہ داری ہے جس کے بارے میں انسان کو اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہ ہونا ہے۔
:چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ ۖ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا (الإسراء: 34)
اور عہد کو پورا کرو، بے شک عہد کے بارے میں باز پرس کی جائے گی۔
یہ آیت بدعہدی کی سنگینی کو واضح کرنے کے لیے کافی ہے۔ انسان سمجھتا ہے کہ وعدہ تو زبان سے کیا تھا، اسے کون پوچھنے والا ہے؟
جبکہ انسان کی زبان سے نکلنے والا وعدہ اس کے ساتھ ختم نہیں ہوجاتا، بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے علم میں محفوظ رہتا ہے، اور قیامت کے دن اس کے بارے میں باز پرس ہوسکتی ہے۔
وعدہ پورا کرنے کو اللہ تعالیٰ نے اپنے سچے اور متقی بندوں کی صفات میں بیان فرمایا ہے ۔
:ارشاد ہے
وَالْمُوفُونَ بِعَهْدِهِمْ إِذَا عَاهَدُوا
(البقرۃ: 177)
اور وہ لوگ جو عہد کریں تو اپنے عہد کو پورا کرنے والے ہوں۔
:پھر آگے ارشاد فرمایا
أُولَٰئِكَ الَّذِينَ صَدَقُوا وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ (البقرۃ: 177)
وہی لوگ سچے اور وہی لوگ متقی ہیں
غور کیجیے! اللہ تعالیٰ نے نیکی کے جامع بیان میں وعدہ پورا کرنے کو بھی اہلِ تقویٰ و ایمان کی نمایاں صفت قرار دیا۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی انسان کا رسمی طور پر عبادت گزار ہو جانا کافی نہیں، بلکہ اس کے اخلاق اور معاملات بھی اس کے ایمان کا آئینہ ہونا چاہیے۔
جو شخص نماز کا پابند ہو، قرآنِ کریم کی تلاوت سے اپنی زبان کو تر رکھتا ہو، ذکر و اذکار میں بھی مشغول رہتا ہو، مگر اس کے باوجود وعدوں کی پاسداری نہ کرتا ہو، لوگوں کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی برتتا ہو اور قول و قرار کی خلاف ورزی اس کی عادت بن چکی ہو، تو اس کی شخصیت میں ایک نہایت سنگین اور تشویش ناک عملی تضاد پایا جاتا ہے۔
اس کی عبادتیں اپنی جگہ قابلِ قدر ہیں، لیکن عبادت کا حقیقی اثر انسان کے کردار، معاملات اور برتاؤ میں نمایاں ہونا چاہیے۔
جب زبان اللہ تعالیٰ کے ذکر سے تر ہو مگر اسی زبان سے کیے گئے وعدے بے وقعت ہو جائیں، جب پیشانی سجدوں سے آشنا ہو مگر ہاتھ دوسروں کے حقوق پامال کرنے لگیں، تو یہ کیفیت ایمان کے مطلوبہ عملی تقاضوں اور اعمال کے درمیان ایک گہری خلیج کی نشان دہی کرتی ہے۔
اسلام انسان کو صرف نماز پڑھنے والا، تلاوت کرنے والا اور ذکر کرنے والا نہیں بنانا چاہتا، بلکہ اسے ایسا سچا، دیانت دار، امانت دار اور قابلِ اعتماد انسان بنانا چاہتا ہے جس کے قول و قرار پر بھروسا کیا جاسکے، جس کے وعدے کو ضمانت سمجھا جائے، جس کے ساتھ معاملہ کرنے میں دل مطمئن رہے اور جس سے دوسروں کے حقوق محفوظ رہیں۔
نبی کریم ﷺ نے مومن کی تعریف یوں بیان فرمائی ہے ۔
الْمُؤْمِنُ مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ عَلَى دِمَائِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ۔ ( نسائی ، ترمذی )
مومن وہ ہے جس سے لوگ اپنی جانوں اور اپنے مالوں کے بارے میں بے خوف اور مطمئن ہوں۔
عبادت انسان کے باطن کو سنوارتی ہے، لیکن اس باطن کی سچائی کا نمایاں اثر اس کے معاملات اور اخلاق میں ظاہر ہونا چاہیے۔
چنانچہ اگر کسی شخص کی زبان اللہ تعالیٰ کے ذکر سے تر ہو، پیشانی سجدوں سے آشنا ہو، تلاوت اس کا معمول ہو، لیکن اس کی زبان سے نکلا ہوا وعدہ لوگوں کے لیے قابلِ اعتماد نہ ہو، تو اسے اپنے اندرون کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ آخر اس کی عبادتوں کا حاصل کیا ہے؟
جبکہ قرآن کریم نے بارہا عبادتوں کی مشروعیت کا مقصد تقوی بیان فرمایا ہے ۔
:اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
يَا أَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (البقرة21)
اے لوگو! اب رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تمہارے آباء و اجداد کو پیدا کیا تاکہ تم متقی بن جاؤ ۔
اسلام عبادت اور اخلاق کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کرتا، وہ بندے کو اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنے کے ساتھ بندوں کے حقوق ادا کرنے اور اپنے قول و قرار کی حفاظت کا بھی پابند بناتا ہے۔
وعدہ خلافی کی قباحت اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب ہم نبی کریم ﷺ کی وہ حدیث پڑھتے ہیں جس میں آپ ﷺ نے منافق کی علامتیں بیان فرمائی ہیں۔
:رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرماتے ہیں
آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ (بخاری، مسلم)
منافق کی تین نشانیاں ہیں: جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے، اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔
یہاں نبی کریم ﷺ نے وعدہ خلافی کو عام اخلاقی کمزوریوں کی فہرست میں نہیں رکھا بلکہ اسے نفاق کی علامت قرار دیا۔
یعنی جس شخص میں یہ عادت پیدا ہوجائے کہ وہ وعدے کرتا ہے اور پھر پورا کرنے کا ارادہ ہی نہیں رکھتا، تو وہ اپنے اندر منافقانہ صفات پیدا کر رہا ہے۔
ایک اور حدیث میں چار خطرناک صفات کا ذکر ہے ۔
:رسول اللہ ﷺ ارشاد فرماتے ہیں
أَرْبَعٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ كَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا، وَمَنْ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنْهُنَّ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنَ النِّفَاقِ حَتَّى يَدَعَهَا: إِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ، وَإِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا عَاهَدَ غَدَرَ، وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ۔
(بخاری، مسلم)
چار خصلتیں جس شخص میں ہوں وہ خالص منافق ہے، اور جس میں ان میں سے ایک خصلت ہو اس میں نفاق کی ایک خصلت ہے جب تک وہ اسے چھوڑ نہ دے
جب امانت دی جائے تو خیانت کرے، بات کرے تو جھوٹ بولے، عہد کرے تو بدعہدی کرے، اور جھگڑے کرے تو بدزبانی کرے۔
یہاں “وَإِذَا عَاهَدَ غَدَرَ” کے الفاظ نہایت قابلِ غور ہیں۔
عہد کرنے کے بعد اس میں خیانت کرنا، وعدہ کرکے جان بوجھ کر توڑ دینا اور اعتماد حاصل کرنے کے بعد اس اعتماد کو پامال کردینا اسلامی اخلاقیات کے منافی ہے۔
اللہ تعالیٰ کے نزدیک وعدہ انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے
بعض لوگ وعدہ کرتے وقت الفاظ کو بہت ہلکا سمجھتے ہیں: “دیکھیں گے۔”
“کوشش کریں گے۔”
“ہو جائے گا۔”
“میں ضرور کردوں گا۔”
“آپ فکر نہ کریں۔”
:پھر وقت آنے پر کہتے ہیں
“ارے! وہ تو ایسے ہی کہہ دیا تھا۔
وہ تو جملہ تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
اسی طرح آج کل ہمارے معاشرے میں وعدہ کرنے کا ایک نیا انداز عام ہو رہا ہے۔ بعض لوگ کسی کام کا وعدہ کرتے وقت زبان سے “ان شاء اللہ” پڑھ دیتے ہیں، لیکن دل میں اس کام کو انجام دینے کا کوئی حقیقی ارادہ نہیں ہوتا۔ وہ صرف سامنے والے کو مطمئن کرنے، وقتی طور پر بات ٹالنے یا وعدے سے بچ نکلنے کے لیے “ان شاء اللہ” کا سہارا لیتے ہیں۔
یہ طرزِ عمل درست نہیں۔ “ان شاء اللہ” وعدے سے بچنے، جھوٹی امید دلانے یا سامنے والے کو مصنوعی اطمینان دینے کا ذریعہ نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت پر اعتماد اور اپنے ارادے کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کرنے کا اظہار ہے۔ اس کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ انسان کسی کام کا حقیقی ارادہ اور عزم رکھتا ہو، اسے انجام دینے کی کوشش بھی کرے، لیکن اپنے مستقبل کے ارادے کو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع سمجھتے ہوئے کہے: میں یہ کام کرنے کی کوشش کروں گا، اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو یہ کام ہوجائے گا۔
:اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
وَلَا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فَاعِلٌ ذَٰلِكَ غَدًا إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ (الکہف:23-24)
اور کسی کام کے بارے میں یہ نہ کہو کہ میں اسے کل ضرور کرنے والا ہوں، مگر یہ کہو کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہیں۔
لہٰذا “ان شاء اللہ” کو وعدہ خلافی کا پردہ یا جھوٹا اطمینان دلانے کا ذریعہ بنانا درست نہیں ، یہ ایک طرح کا دھوکا ہے ۔ اگر کسی شخص کا کسی کام کو کرنے کا ارادہ ہی نہیں تو اسے “ان شاء اللہ” کہہ کر سامنے والے کو امید دلانے کے بجائے صاف اور سچی بات کہنی چاہیے۔ صاف انکار، جھوٹی امید سے بہتر ہے ، اور سچی بات، مصنوعی وعدے سے کہیں زیادہ اسلامی اخلاق کے قریب ہے۔
اسلامی اخلاق میں وعدہ خلافی انتہائی خطرناک عمل ہے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ حَتَّىٰ يَبْلُغَ أَشُدَّهُ ۚ وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ ۖ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا (الإسراء: 34)
اور یتیم کے مال کے قریب بھی نہ جاؤ مگر ایسے طریقے سے جو بہترین ہو، یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائے، اور عہد کو پورا کرو، بے شک عہد کے بارے میں باز پرس ہوگی۔
یہاں وعدہ پورا کرنے کا حکم حقوق العباد اور مالی ذمہ داریوں کے بیان کے درمیان آیا ہوا ہے۔
اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ عہد شکنی کو اسلام محض شخصی اخلاق کا مسئلہ نہیں سمجھتا، بلکہ اسے انسانی حقوق اور معاشرتی ذمہ داریوں سے جوڑتا ہے۔
قرآن کریم نے عہد شکنی کو اللہ تعالیٰ کے غضب کا سبب قرار دیا
سورہ مائدہ میں بنی اسرائیل کے بعض اعمال کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِيثَاقَهُمْ لَعَنَّاهُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوبَهُمْ قَاسِيَة(المائدۃ: 13)
پھر ان کے اپنے میثاق توڑنے کی وجہ سے ہم نے ان پر لعنت کی اور ان کے دل سخت کردیے۔
میثاق توڑنے کا نتیجہ صرف ایک وعدہ کا ختم ہونا نہیں، بلکہ دل کی سختی اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی تک پہنچ سکتا ہے۔
جب انسان بار بار عہد توڑتا ہے تو اس کے دل سے وفاداری کی قدر ختم ہونے لگتی ہے۔ پھر وعدہ اس کے نزدیک کھیل بن جاتا ہے، جھوٹ معمول بن جاتا ہے اور دوسروں کا اعتماد اس کے لیے بے معنی ہوجاتا ہے۔
وعدہ خلافی کا سب سے پہلا نقصان یہ ہوتا ہے کہ انسان اپنی اخلاقی ساکھ کھو دیتا ہے۔ کوئی شخص اگر ایک بار کسی کا اعتماد توڑ دیتا ہے تو وہ شخص آئندہ کے لئے ہمیشہ محتاط ہوجاتا ہے۔ اگر دوسری بار بھی وعدہ توڑ دیا تو اعتماد مزید کم ہوجاتا ہے۔ اور جب بدعہدی عادت بن جائے تو لوگ اس کی بات سن کر بھی یقین نہیں کرتے۔
پھر ایک وقت آتا ہے کہ اس شخص کی زبان سے نکلا ہوا سچا وعدہ بھی دوسروں کے لیے بے معنی ہو جاتا ہے۔
یہ بدعہدی کی دنیاوی سزا ہے۔ اور آخرت کا معاملہ اس سے کہیں زیادہ سنگین ہے، کیونکہ وہاں ہر قول و فعل کا حساب ہوگا۔
اللہ تعالیٰ کے نزدیک قول و عمل کا تضاد سخت ناپسند ہے ۔ ارشاد ہے
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللَّهِ أَنْ تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ
(الصف: 2-3)
اے ایمان والو! تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں؟ اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ بات سخت ناپسندیدہ ہے کہ تم وہ کہو جو کرتے نہیں۔
انسان کی زبان اس کے عمل کی ترجمان ہونی چاہیے۔ اگر زبان وعدے کرے اور عمل انہیں مسلسل جھٹلاتا رہے تو ایسا شخص نہایت درجہ نا قابل اعتبار ہو جاتا ہے ۔
مومن کی شان یہ ہے کہ اس کا قول اس کے عمل کا پیش خیمہ ہو، نہ کہ عمل قول کی تکذیب کرتا پھرے۔
البتہ اگر کسی شخص نے وعدہ کرتے وقت واقعی پورا کرنے کا ارادہ رکھا، لیکن بعد میں کوئی حقیقی مجبوری پیش آگئی اور وہ وعدہ پورا نہ کرسکا، تو اسے اس شخص کے برابر نہیں رکھا جائے گا جو شروع ہی سے وعدہ پورا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا۔
بالخصوص اس صورت میں ہے جب انسان جان بوجھ کر وعدہ کرے اور وعدہ پورا کرنے کا ارادہ نہ رکھے، یا بلا عذر اسے توڑ دے۔
اسی لیے مسلمان کو وعدہ کرتے وقت اپنی استطاعت، حالات اور مستقبل کی ذمہ داریوں کو سامنے رکھنا چاہیے۔
ہر بات پر فوراً “ہاں” کہنا نیکی نہیں۔
کبھی کبھی وعدہ نہ کرنا، وعدہ کرکے توڑنے سے بہتر ہوتا ہے۔
اگر معلوم ہے کہ فلاں کام ممکن نہیں تو :صاف کہہ دینا چاہیے
میں معذرت چاہتا ہوں، میں یہ ذمہ داری نہیں لے سکتا۔
لیکن “ضرور کردوں گا” کہہ کر بعد میں جان بوجھ کر غائب ہو جانا بدعہدی ہے۔
بلاوجہ وعدے کرنا بھی خطرناک عادت ہے
بعض لوگ مخاطب کو خوش کرنے کے لیے وعدے کرتے ہیں۔
کسی نے مدد مانگی، فوراً کہہ دیا: میں کر دوں گا۔
کسی نے قرض مانگا: “کل دے دوں گا۔ کسی نے کسی کام کی امید لگائی: آپ کا کام پکا سمجھیں۔ کسی رشتہ دار سے کہا: میں کل آپ سے ضرور ملونگا۔
پھر نہ فون، نہ وضاحت، نہ معذرت!
ایسے بے شمار چھوٹے چھوٹے وعدے انسان کے اخلاقی کردار کو کمزور کرتے رہتے ہیں۔
اس لیے مومن کی زبان محتاط ہونی چاہیے۔
:وہ بولنے سے پہلے سوچتا ہے
کیا میں یہ کرسکتا ہوں؟
کیا مجھے یہ کہنا چاہیے؟
اگر میں یہ وعدہ کروں تو کیا میں اسے پورا کرسکوں گا؟
اللہ تعالیٰ کے نام پر کیا گیا وعدہ اور بھی سنگین ہے
اگر کسی شخص نے اللہ تعالیٰ کا نام لے کر کسی کام کا عہد کیا تو معاملہ مزید اہم ہو جاتا ہے۔
:مثلاً کوئی شخص کہے
“واللہ! میں یہ کام کروں گا۔”
یہ محض عام وعدہ نہیں بلکہ قسم کے حکم میں داخل ہے، اور اس کے لیے شرعی احکام الگ ہیں۔
:اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
وَاحْفَظُوا أَيْمَانَكُمْ (المائدۃ: 89) اور اپنی قسموں کی حفاظت کرو۔
اس لیے مسلمان کو قسم کھانے میں بھی احتیاط برتنی چاہیے اور اللہ تعالیٰ کے نام کو معمولی گفتگو میں استعمال کرکے اپنی بات کو غیر ضروری طور پر مؤکد نہیں کرنا چاہیے۔
عہدِ الٰہی کی خلاف ورزی سب سے بڑی بدعہدی ہے
انسانوں سے کیے گئے وعدوں کے ساتھ ساتھ قرآن کریم نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیے گئے عہد کو بھی بڑی اہمیت دی ہے۔
:اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
الَّذِينَ يَنْقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ مِنْ بَعْدِ مِيثَاقِهِ وَيَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَنْ يُوصَلَ وَيُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ ۚ أُولَٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ (البقرۃ: 27)
جو لوگ اللہ تعالیٰ کے عہد کو پختہ کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں، اور جنہیں ( رشتوں کو ) اللہ تعالیٰ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے اسے کاٹتے ہیں، اور زمین میں فساد برپا کرتے ہیں، وہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔
یہ آیت عہد شکنی کو فساد اور خسارے کے ساتھ جوڑتی ہے۔ کیونکہ جب عہد کی حرمت ختم ہو جائے تو اعتماد ختم ہو جاتا ہے، اور جب اعتماد ختم ہو جائے تو معاشرتی نظام کمزور ہو جاتا ہے۔
عہد صرف دوستوں کے ساتھ نہیں، مخالفین اور دشمنوں کے ساتھ بھی پورا کرنا ہے۔
اسلام کی عظمت یہ ہے کہ اس نے وفاداری کا اصول صرف اپنے لوگوں کے لیے مقرر نہیں کیا۔
:اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
وَأَوْفُوا بِعَهْدِ اللَّهِ إِذَا عَاهَدْتُمْ
(النحل: 91)
اور جب تم عہد کرو تو اللہ تعالیٰ کے عہد کو پورا کرو۔
:اور آگے ارشاد فرمایا
وَلَا تَنْقُضُوا الْأَيْمَانَ بَعْدَ تَوْكِيدِهَا (النحل: 91)
اور اپنی قسموں کو پختہ کرنے کے بعد نہ توڑو۔
اسلامی اخلاق کا یہ بلند معیار ہے کہ اگر کسی کے ساتھ معاہدہ ہوگیا ہے تو اسے محض اس وجہ سے نہیں توڑا جاسکتا کہ اب اس سے فائدہ حاصل نہیں ہو رہا۔
مومن مفاد کے تابع نہیں بلکہ اصول کا پابند ہوتا ہے۔
بدعہدی کا ایک نہایت اہم پہلو حقوق العباد ہے۔
اگر کسی شخص کے وعدے پر کسی دوسرے انسان نے اعتماد کرکے کوئی فیصلہ کیا اور پھر وعدہ خلافی کی وجہ سے اسے نقصان اٹھانا پڑا تو معاملہ صرف اخلاقی کمزوری نہیں رہتا، بلکہ حقوق العباد سے متعلق ہو جاتا ہے۔
مثلاً: قرض واپس کرنے کا وعدہ کرکے بلا وجہ ٹالنا،
ملازم کی اجرت مقررہ وقت پر دینے کا وعدہ کرکے روک لینا، کاروباری معاہدے کی خلاف ورزی کرنا
کسی کی امانت مقررہ وقت پر واپس نہ کرنا،
نکاح یا خاندانی معاملات میں کیے گئے جائز وعدوں سے بے اعتنائی،
کسی ضرورت مند سے مدد کا وعدہ کرکے اسے امید میں مبتلا رکھنا،
کسی سے ذمہ داری پوری کرنے کا وعدہ کرکے اسے نقصان پہنچانا،
یہ سب صورتیں اپنے اپنے درجے میں قابلِ احتساب ہیں۔
اور اگر بدعہدی سے کسی کا مالی یا حقیقی حق ضائع ہوگیا تو صرف “اللہ تعالیٰ سے معافی” کافی نہیں، جس کا حق ضائع ہوا ہے، اس کا حق ادا کرنا اور مناسب طور پر اس سے معافی مانگنا بھی ضروری ہوگا۔
اسی طرح تجارت میں وعدہ خلافی کا اثر بہت دور تک جاتا ہے۔ ایک تاجر جب قیمت، مقدار، معیار، وقتِ فراہمی یا ادائیگی کے بارے میں کوئی جائز معاہدہ کرتا ہے تو وہ دوسرے فریق کے اعتماد کو قبول کرتا ہے۔
اگر وہ جان بوجھ کر اپنے وعدے سے پھر جائے تو وہ صرف ایک شخص کو دھوکا نہیں دیتا بلکہ تجارت کے بنیادی اصولِ اعتماد کو مجروح کرتا ہے۔
:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا (مسلم)
جس نے ہمیں دھوکا دیا وہ ہم میں سے نہیں۔
اس حدیث میں دھوکا دہی کی شدید مذمت ہے، اور بدعہدی بھی اسی اخلاقی بیماری کا ایک اہم مظہر بن سکتی ہے۔
وعدہ خلافی صرف بازار اور کاروبار کا مسئلہ نہیں۔
بعض اوقات انسان باہر کی دنیا میں بڑا بااصول نظر آتا ہے، مگر گھر والوں سے کیے ہوئے وعدوں کی کوئی اہمیت نہیں سمجھتا۔
والدین اولاد سے وعدہ کرتے ہیں اور پورا نہیں کرتے، شوہر بیوی سے وعدہ کرتا ہے اور بھول جاتا ہے، بیوی شوہر سے وعدہ کرکے پورا نہیں کرتی، بھائی بھائی سے وعدہ کرکے مکر جاتا ہے۔ نتیجتاً اعتماد کمزور ہو جاتا ہے۔
خصوصاً بچوں کے ساتھ بار بار وعدہ خلافی ان کے ذہن میں بڑوں کی بات کی قدر کم کر دیتی ہے۔
اس لیے والدین کو بچوں سے بھی وہی وعدہ کرنا چاہیے جسے پورا کرنے کا امکان ہو۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری اولاد سچی، امانت دار اور ذمہ دار بنے تو ہمیں انہیں صرف نصیحت نہیں کرنی چاہیے بلکہ اپنے کردار سے سبق دینا چاہیے۔
:بچہ دیکھتا ہے کہ
ابو نے وعدہ کیا تو پورا کیا کہ نہیں ؟
امی نے وعدہ کرکے پورا کیا کہ نہیں ؟
بڑے بھائی ، بڑی بہن وعدے کے کتنے پابند ہیں ؟
وہ انہی مشاہدات سے اخلاق سیکھتا ہے۔
اس لیے کردار کی زبان، نصیحت کی زبان سے زیادہ مؤثر ہوتی ہے۔
:ذرا تصور کیجیے
اگر ملازم کو مالک پر اعتماد نہ ہو، مالک کو ملازم پر اعتماد نہ ہو،
خریدار کو دکاندار پر اعتماد نہ ہو، دکاندار کو خریدار پر اعتماد نہ ہو،
میاں بیوی ایک دوسرے کی بات پر یقین نہ کریں،
دوست ایک دوسرے کے وعدوں پر اعتماد نہ کریں،
تاجر معاہدوں کی پابندی نہ کریں،
حکومتیں اپنے معاہدوں کی پاس داری نہ کریں،
تو کیا کوئی معاشرہ مضبوط رہ سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔
اس لیے وفائے عہد معاشرے کی اہم بنیاد ہے۔
قانون ہر جگہ موجود نہیں ہوسکتا، عدالت ہر معاملے میں فوری فیصلہ نہیں کرسکتی، ہر شخص پر ہر وقت نگرانی نہیں کی جاسکتی، لیکن اگر لوگوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کا خوف اور عہد کی پاس داری موجود ہو تو معاشرہ خود بخود امن و اعتماد کی طرف بڑھتا ہے۔
بدعہدی صرف زبان کی بیماری نہیں، دل کی بیماری بھی ہے۔
بار بار وعدہ خلافی کرنے والا شخص آہستہ آہستہ تین چیزیں کھو دیتا ہے
سچائی، ذمہ داری اور اعتماد۔
پھر اس کے لیے جھوٹ بولنا آسان ہو جاتا ہے۔
وعدہ کرنا اور اسے توڑنا بھی آسان ہو جاتا ہے۔
اور اپنی غلطی تسلیم کرنا معذرت کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں اخلاقی بیماری کردار کا حصہ بن جاتی ہے۔
اس لیے بدعہدی کی اصلاح ابتدا ہی میں کرنی چاہیے۔
معذرت وعدہ خلافی کا علاج نہیں، لیکن اصلاح کا دروازہ ضرور ہے۔
اگر انسان سے واقعی کوئی وعدہ پورا نہ ہوسکا تو اسے خاموشی اختیار نہیں کرنی چاہیے۔ اسے چاہیے کہ
سچ بتائے، معذرت کرے، دوسرے کے نقصان کی تلافی کرے اور آئندہ غیر ضروری وعدہ نہ کرے۔
یہ رویہ انسان کو اخلاقی اعتبار سے بلند کرتا ہے۔
غلطی ہو جانا انسانی کمزوری ہے، لیکن غلطی کو تسلیم نہ کرنا اور اسے مسلسل دہراتے رہنا اخلاقی زوال ہے۔
وعدہ خلافی کے باوجود معافی کا راستہ بند نہیں،
اسلام انسان کو گناہ سے ڈراتا ضرور ہے، مگر توبہ کا دروازہ بند نہیں کرتا۔
اگر کسی شخص نے بدعہدی کی ہے تو اسے چاہیے کہ
اللہ تعالیٰ سے سچی توبہ کرے، آئندہ وعدہ خلافی نہ کرنے کا عزم کرے، اور اگر کسی بندے کا حق متاثر ہوا ہے تو اس کا حق ادا کرے یا اس سے معافی حاصل کرے۔
یہی حقیقی اصلاح ہے۔
نبی کریم ﷺ کی سیرت میں وفائے عہد کے بے شمار روشن نمونے موجود ہیں۔
آپ ﷺ نے دشمنوں کے ساتھ بھی معاہدات کی پاس داری فرمائی۔ صلح حدیبیہ کا واقعہ اس سلسلے میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ بعض شرائط بظاہر مسلمانوں کے لیے سخت تھیں، مگر نبی کریم ﷺ نے معاہدے کی پاس داری فرمائی۔ یہی اسلامی اخلاق ہے
جس وقت وعدہ ہمارے مفاد میں ہو تو وفاداری آسان ہے، لیکن جب وعدہ نبھانے میں ہمیں نقصان محسوس ہو اور اس کے باوجود ہم اسے پورا کریں، تب وفائے عہد کے اخلاقی کمال کا اظہار ہوتا ہے۔
مسلمان کو سب سے زیادہ خوف اس بات سے ہونا چاہیے کہ کوئی اخلاقی برائی رفتہ رفتہ اس کی شخصیت کا حصہ نہ بن جائے۔
آج ایک وعدہ خلافی، کل دوسری، پھر تیسری،
پھر وعدہ خلافی کے لیے جھوٹ، پھر جھوٹ چھپانے کے لیے دوسرا جھوٹ،
پھر لوگوں کا اعتماد ختم،
پھر امانت میں خیانت،
اور بالآخر انسان کا اخلاقی وجود اندر سے کمزور ہو جاتا ہے۔
اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے وعدہ خلافی کو نفاق کی علامتوں میں شمار فرمایا ہے ۔
یہاں ایک شرعی اصول بھی سمجھنا ضروری ہے۔
اسلام جائز اور درست وعدوں کی پابندی کی تعلیم دیتا ہے۔ اگر کوئی شخص گناہ یا ظلم کا وعدہ کرے تو ایسا وعدہ پورا کرنا جائز نہیں۔ مثلاً کوئی شخص کہے
میں فلاں بے گناہ کو نقصان پہنچاؤں گا۔ یا میں فلاں حرام کام ضرور کروں گا۔
ایسا وعدہ پورا کرنا دینی وفاداری نہیں بلکہ گناہ ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةٍ، إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ (بخاری، مسلم)
گناہ کے کام میں اطاعت نہیں، اطاعت صرف نیکی کے کام میں ہے۔
لہٰذا عہد و وعدے کی پابندی کا حکم شریعت کے دائرے میں ہے۔ مومن کا اخلاق یہ ہونا چاہیے کہ وہ: بات سوچ کر کرے، وعدہ سوچ سمجھ کر کرے، وعدہ کرے تو پورا کرے، مجبور ہو جائے تو بروقت اطلاع دے، نقصان ہوا ہو تو تلافی کرے اور غلطی ہو جائے تو معذرت کرے۔
ایسے انسان کی زبان پر لوگوں کو اعتماد ہوتا ہے۔
اور جس انسان کی زبان قابلِ اعتماد ہو جائے، اس کی شخصیت معاشرے میں خود بخود محترم ہو جاتی ہے۔
قیامت کے دن انسان سے صرف یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ اس نے کتنی عبادت کی، بلکہ اس سے یہ بھی پوچھا جاسکتا ہے کہ
تم نے کس سے کیا وعدہ کیا تھا؟ کون تم پر اعتماد کرکے بیٹھا تھا؟ کس نے تمہاری بات پر اپنا فیصلہ کیا تھا؟
تم نے کس کا حق اپنے وعدے کی وجہ سے معطل کیا؟
کس کو تم نے امید دلائی؟
کس کا اعتماد توڑا؟
اور اگر کسی بندے کا حق ضائع کیا تو اسے کیسے واپس کیا؟
یہ سوالات انسان کے لیے انتہائی خوفناک ہیں
بدعہدی بظاہر ایک چھوٹی سی اخلاقی لغزش معلوم ہوتی ہے، لیکن حقیقت میں یہ سچائی، امانت، اعتماد اور انسانی تعلقات کی بنیادوں کو متزلزل کرنے والا خطرناک اخلاقی جرم ہے۔
ایک وعدہ صرف چند الفاظ کا مجموعہ نہیں ، یہ کسی انسان کے دل میں پیدا ہونے والے اعتماد کی ذمہ داری ہے۔
جب کوئی شخص کہتا ہے
“میں کروں گا”
تو دوسرے انسان کے دل میں امید پیدا ہوتی ہے۔
جب وہ کہتا ہے:
“میں ضرور آؤں گا”
تو دوسرا اس کی آمد پر اپنے کاموں کی ترتیب بناتا ہے۔
:جب وہ کہتا ہے
“میں تمہارا حق ادا کر دوں گا”
تو دوسرا اپنے حق کے ملنے کی امید باندھ لیتا ہے۔
اور جب وہ بار بار وعدہ کرکے مکر جاتا ہے تو وہ صرف اپنا وعدہ نہیں توڑتا، بلکہ کسی دوسرے انسان کے اعتماد، امید اور حق کو بھی مجروح کرتا ہے۔
اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے وعدہ خلافی کو منافقانہ خصلت قرار دیا۔
لہٰذا ہمیں اپنے ایمان کا جائزہ لینا چاہیے۔
ہم دوسروں سے کتنے وعدے کرتے ہیں؟
ان میں سے کتنے پورے کرتے ہیں؟
کیا ہماری زبان پر لوگوں کو اعتماد ہے؟
کیا ہمارے گھر والے ہماری بات پر یقین کرتے ہیں؟
کیا ہمارے دوست ہمارے وعدوں کو معتبر سمجھتے ہیں؟
کیا ہمارے کاروباری معاملات میں ہماری زبان ہماری تحریر کے برابر معتبر ہے؟
کیا ہماری اولاد ہمیں وعدہ پورا کرنے والا انسان سمجھتی ہے؟
:اور سب سے بڑھ کر
کیا ہم اس دن کے لیے تیار ہیں جب اللہ تعالیٰ کے سامنے ہمارے تمام عہد و پیمان پیش کیے جائیں گے؟
یاد رکھیے!
جھوٹا انسان صرف اپنی زبان کا اعتبار کھوتا ہے، لیکن بد عہد انسان دوسروں کے دلوں سے اپنا اعتماد کھو دیتا ہے۔
اور جس انسان پر لوگوں کا اعتماد ختم ہو جائے، اس کی سماجی قوت کم ہو جاتی ہے، جبکہ جس بندے کی زبان سچی، وعدہ پختہ اور کردار قابلِ اعتماد ہو، وہ لوگوں کے دلوں میں جگہ بناتا ہے۔
مومن کی شان یہ نہیں کہ وہ بہت وعدے کرے،
مومن کی شان یہ ہے کہ وہ کم وعدے کرے، لیکن جو وعدہ کرے اسے وفا کے ساتھ نبھائے۔
:آئیے! ہم اپنے آپ سے عہد کریں کہ
ہم غیر ضروری وعدے نہیں کریں گے،
وعدہ کرنے سے پہلے اپنی استطاعت دیکھیں گے،
جائز وعدہ کریں گے تو اسے پورا کرنے کی پوری کوشش کریں گے،
کسی مجبوری کی وجہ سے وعدہ پورا نہ کرسکیں تو بروقت اطلاع دیں گے،
کسی کا حق متاثر ہوا ہو تو اس کی تلافی کریں گے،
اور اپنی زبان کو ایسی ذمہ داری سے محفوظ رکھیں گے جسے ہم پورا نہ کرسکیں۔
کیونکہ زبان سے نکلا ہوا وعدہ انسانوں کے کانوں تک پہنچتا ہے، لیکن اس کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ کے علم میں محفوظ ہو جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سچی زبان، پاکیزہ کردار، وفائے عہد، امانت داری اور حقوق العباد کی ادائیگی کی توفیق عطا فرمائیں ۔ آمین


